میر رضا کیس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ آج جاری ہوگی، 4 رکنی عمل درآمد کمیٹی بھی قائم
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت اجلاس میں صوبائی کابینہ نے میر رضا قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ پبلک کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ رپورٹ آج ہی محکمہ داخلہ سندھ کی ویب سائٹ پر جاری کی جائے گی۔ رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جبکہ وزیراعلیٰ نے رپورٹ متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ترجمان سندھ حکومت کے مطابق میر رضا کیس سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ سات لفافوں میں کابینہ کے سامنے پیش کی گئی۔ جس کے بعد کابینہ نے اس رپورٹ کو آج ہی پبلک کرنے کی منظوری دی۔
صوبائی کابینہ نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے 4 رکنی ذیلی کمیٹی بھی قائم کی ہے جس میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، صوبائی وزیر سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی رواں برس 28 جولائی کو پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) سے پُراسرار طور پر لاپتہ ہوئے تھے اور 2 روز بعد ان کی لاش گلستانِ جوہر کے علاقے سے برآمد ہوئی تھی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ پر شکوک و شبہات پیدا ہونے کے بعد مقتول کے والد نے عدالت سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت نے قبر کشائی اور خصوصی میڈیکو لیگل بورڈ کے ذریعے لاش کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دیا تھا۔
متاثرہ خاندان کی جانب سے پولیس تفتیش اور طریقہ کار پر تحفظات کے اظہار کے بعد سندھ حکومت نے اگست میں سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا تھا۔
جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران 15 سماعتیں کیں اور 49 گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ کمیشن نے میر رضا کی لاش ملنے کے مقام کا دورہ بھی کیا۔ کمیشن رپورٹ میں پولیس کی تفتیش، طبی و قانونی (میڈیکو لیگل) کارروائیوں اور کیس میں مبینہ غفلت سے متعلق امور کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
جوڈیشل کمیشن نے اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اپنی کارروائی مکمل کر کے 15 اکتوبر کو یہ تفصیلی رپورٹ سندھ حکومت کے حوالے کی تھی جسے آج ہی پبلک کیے جانے کا امکان ہے۔