میدانِ جنگ میں نیا ‘بموں کا باپ’ اُتارنے کے لیے تیار ہیں: ایران کا ٹرمپ کے منصوبے پر ردِ عمل
ایران کی مسلح افواج پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے ایک نئے اور غیر معمولی ہتھیار کی تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد ’فادر آف آل بم‘ نامی بم کی نمائش کے لیے تیار ہیں، جو کہ دشمن کے لیے بالکل نیا تجربہ ہوگا۔
پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے ایرانی میڈیا کو بتایا کہ تہران اپنی جنگی حکمتِ عملی کو صرف دفاع تک محدود رکھنے کے بجائے اب جارحانہ اور غیر متوازن یعنی غیر روايتی حکمتِ عملی میں تبدیل کر رہا ہے، جس کے تحت ایران پر حملہ کرنے والے کسی بھی ملک کو جوابی جارحیت اور زمینی پیش قدمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
حسین محبی کا یہ بیان خطے میں امریکا کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کے دوران سامنے آیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائیوں کا دوبارہ حکم دیے جانے کی صورت میں امریکی فوج نے اپنے سب سے بڑے غیر ایٹمی ہتھیار جسے ’مدر آف آل بم‘ کہا جاتا ہے، اس کے ذریعے ایران کی توانائی کی تنصیبات اور اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے منصوبے تیار کر رکھے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی ترجمان نے آبنائے ہرمز کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی امریکی معیشت اور سیاست پر براہِ راست اثر انداز ہو رہی ہے، جو صدر ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو آنے والے وسط المدتی انتخابات میں سیاسی طور پر بھاری پڑ سکتی ہے۔
فوجی بیانات اور سخت ترین دھمکیوں کے ساتھ ساتھ ایران کی جانب سے ایک محدود سفارتی دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اشارہ دیا گیا ہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے برطانیہ کے معتبر اخبار ’فائنینشل ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون کے اقتباسات سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا کی جانب سے اعتماد سازی اور کسی منصفانہ حل تک پہنچنے کی سچی خواہش اور مضبوط شواہد سامنے آئیں، تو تہران سفارت کاری کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہے۔
تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر واشنگٹن نے گفتگو کے بجائے جنگ کا راستہ منتخب کیا تو اس کا نتیجہ امریکا کے لیے ایک اور بڑی حکمتِ عملی کی ناکامی اور تاریخی شکست کی صورت میں نکلے گا۔