ہیری بروک کی ڈبل سنچری، ون ڈے کرکٹ میں کئی ریکارڈ توڑ دیے

انگلش ٹیم کے کپتان ہیری بروک نے پاکستان کی سرزمین پر سری لنکا کے خلاف راولپنڈی میں تاریخ رقم کرتے ہوئے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں انگلینڈ کی جانب سے پہلی ڈبل سنچری بنا دی ہے۔ انہوں نے 114 گیندوں پر 202 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل کر ون ڈے کرکٹ میں سب سے بڑا انفرادی اسکور بنانے کے ساتھ گیندوں کے اعتبار سے تیز ترین ڈبل سنچری کا ریکارڈ بھی اپنے نام کرلیا ہے۔

جمعرات کو راولپنڈی میں کھیلے جارہے سہ ملکی ون ڈے سیریز کے تیسرے میچ میں انگلش کپتان ہیری بروک کی شاندار بیٹنگ کی بدولت انگلینڈ نے سری لنکا کے خلاف 4 وکٹوں کے نقصان پر 429 رنز بنائے، جو پاکستان میں ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ کا سب سے بڑا مجموعہ ہے۔

اس دوران انگلش کپتان نے تاریخ کی تیز ترین ڈبل سنچری بنا ڈالی، انہوں نے 114 گیندوں پر کارنامہ انجام دیا، انہوں نے سری لنکن بولرز کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 116 گیندوں پر 202 رنز اسکور کیے، ان کی اننگز میں 21 چوکے اور 10 چھکے شامل تھے۔

ہیری بروک ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے انگلینڈ کے پہلے بیٹر بن گئے، اس کے ساتھ ہی انہوں نے ون ڈے میچ میں انگلینڈ کی جانب سے سب سے زیادہ انفرادی رنز بنانے کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ اس سے قبل انگلینڈ کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں سب سے زیادہ انفرادی اسکور کا ریکارڈ بین اسٹوکس کے پاس تھا، جنہوں نے 2023 میں نیوزی لینڈ کے خلاف اوول میں 182 رنز بنائے تھے۔

انگلش کپتان نے اپنی ڈبل سنچری صرف 114 گیندوں پر مکمل کرکے بھارت کے شبمن گل کا ریکارڈ بھی توڑ دیا، جنہوں نے 30 ستمبر 2026 کو ویسٹ انڈیز کے خلاف گوہاٹی میں 117 گیندوں پر ناقابل شکست 223 رنز بنائے تھے۔ اس طرح ہیری بروک گیندوں کے اعتبار سے ون ڈے کرکٹ کی تیز ترین ڈبل سنچری بنانے والے بیٹر بن گئے۔

بروک نے اپنی اننگز کا آغاز محتاط انداز میں کیا اور ابتدائی 24 گیندوں پر صرف 13 رنز بنائے تاہم اس کے بعد بیٹنگ کی رفتار بڑھاتے ہوئے 42 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ انہوں نے اپنی چوتھی ون ڈے سنچری 75 گیندوں پر بنائی جب کہ سنچری مکمل کرنے کے بعد اگلی 39 گیندوں پر مزید 100 رنز بناکر ڈبل سنچری کا سنگ میل عبور کرلیا۔

بروک کی یہ اننگز ون ڈے کرکٹ میں کسی بھی انگلش بیٹر کی سب سے بڑی انفرادی اننگز ہے۔ اس سے پہلے پاکستان میں ون ڈے کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کا ریکارڈ جنوبی افریقا کے سابق کپتان گیری کرسٹن کے پاس تھا، جنہوں نے 1996 میں راولپنڈی ہی میں متحدہ عرب امارات کے خلاف 188 رنز بنائے تھے۔

27 سالہ ہیری بروک ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں ڈبل سنچری بنانے والے کپتانوں کے محدود گروپ میں بھی شامل ہوگئے۔ وہ انگلینڈ کے پہلے کپتان ہیں جنہوں نے اس فارمیٹ میں 200 رنز کا سنگ میل عبور کیا۔

کپتانوں کی جانب سے ون ڈے کرکٹ میں سب سے بڑی انفرادی اننگز کی فہرست میں بھارت کے شبمن گل 223 رنز کے ساتھ پہلے نمبر پر ہیں۔ بھارت ہی کے وریندر سہواگ نے 2011 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 219 رنز بنائے تھے جب کہ روہت شرما نے 2017 میں سری لنکا کے خلاف ناقابل شکست 208 رنز اسکور کیے تھے۔ ہیری بروک کی 202 رنز کی اننگز اس فہرست میں چوتھے نمبر پر آگئی ہے۔

انگلینڈ کے لیے کپتان کی حیثیت سے ون ڈے میں سب سے بڑے انفرادی اسکور کا ریکارڈ بھی اب ہیری بروک کے نام ہوگیا ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ اینڈریو اسٹراس کے پاس تھا، جنہوں نے 2011 میں بھارت کے خلاف 158 رنز بنائے تھے۔

انگلینڈ کی جانب سے ٹام بینٹن نے 50 رنز بنائے جب کہ بین ڈکٹ 29 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔ ہیری بروک نے جو روٹ کے ساتھ تیسری وکٹ کے لیے 159 رنز کی شراکت قائم کی۔ روٹ 69 رنز بناکر آؤٹ ہوئے تو انگلینڈ نے ول جیکس کو پانچویں نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا۔

ہیری بروک اور ول جیکس نے جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 79 گیندوں پر ناقابل شکست 185 رنز کی شراکت قائم کی۔ وک جیکس نے 25 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی اور 30 گیندوں پر 66 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔

انگلینڈ نے اننگز کے آخری 10 اوورز میں 156 رنز اسکور کیے۔ بروک نے اننگز کے آخری اوور میں بین اسٹوکس کا انگلینڈ کی جانب سے سب سے بڑے انفرادی اسکور کا ریکارڈ توڑا۔ انہوں نے آخری اوور میں چھکا لگا کر اور 2 رنز دوڑ کر ڈبل سنچری مکمل کی۔ وہ اننگز کی آخری گیند پر آؤٹ ہوئے، یوں ان کی ریکارڈ ساز اننگز کا اختتام 202 رنز پر ہوا۔

سری لنکا کی جانب سے ڈنتھ ویلالاگے نے 2 وکٹیں حاصل کیں جب کہ اسیتھا فرنینڈو اور جنتھ لیاناگے نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ انگلینڈ کی ریکارڈ ساز بیٹنگ کے بعد سری لنکا کو میچ جیتنے کے لیے 430 رنز کا ہدف ملا۔

واضح رہے کہ انگلینڈ کو اسی گراؤنڈ پر 20 اکتوبر منگل کو پاکستان کے خلاف سہ ملکی سیریز کے افتتاحی میچ میں 87 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میچ کے بعد کپتان ہیری بروک نے اپنے بیٹرز پر زور دیا تھا کہ وہ زیادہ مثبت انداز اپنائیں۔ سری لنکا کے خلاف ان کی اپنی اننگز اسی جارحانہ حکمت عملی کا نمایاں مظاہرہ رہی۔

Related posts