بچوں کی نازیبا تصاویر: ایف بی آئی نے برطانوی شہزادے ہیری کے سُسر کو گرفتار کرلیا
امریکی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) نے سسیکس کی ڈچس میگھن مارکل کے والد، 82 سالہ تھامس مارکل کو بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد رکھنے کی تحقیقات کے سلسلے میں اپنی حراست میں لے لیا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تھامس مارکل کو فلوریڈا کے ڈیمینشیا کے دیکھ بھال کے ایک مرکز سے گرفتار کیا گیا ہے۔
اس معاملے کا انکشاف اس وقت ہوا جب ملزم کے بیٹے تھامس مارکل جونیئر نے گزشتہ ماہ فلپائن پولیس اور ایف بی آئی کو کچھ تصاویر فراہم کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مواد انہیں فلپائن کے شہر سیبو میں اپنے والد کے سامان سے ملا تھا۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے میکسیکو پولیس نے روزاریٹو میں ایک اسٹوریج یونٹ پر چھاپہ مار کر مبینہ مواد کا ایک اور ذخیرہ بھی برآمد کیا، جو مبینہ طور پر تھامس مارکل نے کرائے پر لیا تھا۔
فلپائنی حکام کے مطابق اس کیس میں اب تک 7,000 سے زائد تصاویر اور ایک ویڈیو کلپ برآمد کیا جا چکا ہےجو 10 سے 11 سال سے کم عمر ایشیا ، لاطینی اور یورپی نژاد بچوں اور بالغوں کی ہیں۔
حکام نے اس مواد کو انتہائی گھناؤنا اور قابل نفرت قرار دیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اس معاملے میں ملزم کے بیٹے سے بھی پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، تاہم فی الحال اسے باضابطہ ملزم قرار نہیں دیا گیا۔
فلپائن کے وزیر داخلہ جونوک ریمولا نے منیلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ تحقیقات کے دوران کچھ ایسے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جن سے تھامس مارکل کے بیٹے کے ممکنہ طور پر اس معاملے سے تعلق کا شبہ پیدا ہوتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال بیٹے کو اس کیس میں ملزم نامزد نہیں کیا گیا اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی ملزم جیسا سلوک کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ تھامس مارکل اس سے قبل فلپائن میں طوائفوں کی جنسی خدمات حاصل کرنے کا اعتراف بھی کر چکے ہیں۔ تاہم وہ بچوں کے استحصال پر مبنی مواد رکھنے کے الزامات کی مسلسل تردید کرتے آئے ہیں۔
دوسری جانب میگھن مارکل نے اس واقعے پر شدید صدمے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ بچوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے اپنے بچوں کو حفاظتی وجوہات کی بنا پر پہلے ہی اپنے والد سے دور کر رکھا تھا۔