ٹرمپ کی ایران کے اہم ترین جزیرے قشم پر محدود حملوں کی تصدیق، ‘تہران سے بات چیت اچھی چل رہی ہے’

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جزیرے قشم پر امریکی فوج کے نئے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ محدود نوعیت کے حملے تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا معمولی حملے کرتا ہے۔ ایران نے فضائی دفاع کے لیے ایک چھوٹا سا نظام تیار کیا تھا، جسے امریکی فوج نے تقریباً 15 منٹ یا شاید صرف 5 منٹ میں تباہ کر دیا۔

ٹرمپ کا یہ بیان ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جزیرہ قشم کے علاقے سوزہ میں دو میزائل حملوں کی اطلاع کے بعد سامنے آیا۔ جزیرہ قشم آبنائے ہرمز میں واقع ہے، جو دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے ایک اہم سمندری راستہ ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ایرانی فوج کا ایک بیان بھی نشر کیا، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ایرانی فضائی دفاعی نظام نے جزیرہ قشم کے اوپر امریکی ایم کیو 9 ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا ہے۔

جزیرہ قشم میں دھماکوں کی اطلاعات پر امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ علاقے کی صورتِ حال نسبتاً پُرسکون ہے۔ سینٹ کام کے ایک عہدیدار نے الجزیرہ سے گفتگو میں بتایا کہ انہیں ان اطلاعات کا علم ہے، تاہم انہوں نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔

دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے جمعے کی رات سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معلومات فراہم کرنے والوں کو 2 کروڑ ڈالر تک انعام اور ممکنہ طور پر امریکا منتقل ہونے کا موقع دیا جا سکتا ہے۔

بیان کے مطابق یہ انعام ایران کی جوہری تنصیبات، آلات، اس پروگرام سے وابستہ افراد، سائنسی ماہرین اور ان سے متعلق کسی بھی چیز کی نقل و حرکت کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر دیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پیر کے روز بھی ایرانی میڈیا نے جزیرہ قشم میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی تھیں، جبکہ امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں دفاعی نوعیت کے حملے کیے ہیں۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ صدر ٹرمپ نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں متعدد بار کہا کہ ان کی انتظامیہ تہران کے نمائندوں سے رابطے میں ہے اور ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اس وقت ایران کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے اور مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، تاہم انہوں نے اس پیش رفت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

دوسری جانب قطر نے ہفتے کے روز ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں۔

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے سے صرف ان لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے جو جنگ کو مزید طول دینا اور خطے کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔

قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن بن جاسم آل ثانی نے جمعے کو آکسفورڈ یونیورسٹی میں ایک عوامی گفتگو کے دوران بتایا کہ خطے میں بڑے تصادم کو روکنے کے لیے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے قطر نے امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابو میں رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحران ایسے ہی نہیں چھوڑا جا سکتا کہ اس کا کوئی حل نہ نکلے۔

Related posts