بابر اعظم کا سات برس بعد ڈومیسٹک سفر ناکامی سے شروع

پاکستان کے قومی ٹیسٹ کپتان بابر اعظم سات سال کے طویل عرصے بعد فرسٹ کلاس ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کو یادگار بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

ایبٹ آباد کرکٹ اسٹیڈیم میں جاری پریزیڈنٹ ٹرافی کے ایک میچ میں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ کی نمائندگی کرتے ہوئے بابر اعظم محض 12 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔

بابر اعظم دو دن اپنی باری کا انتظار کرنے کے بعد کریز پر آئے لیکن صرف 20 گیندوں کا سامنا کر سکے اور فاسٹ باؤلر ارشد اقبال کی ایک شارٹ پچ گیند پر وکٹ گنوا بیٹھے۔

بابر اعظم نے ریڈ بال کرکٹ میں اپنی فارم اور تکنیک کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے ڈومیسٹک میچوں میں شرکت کی درخواست کی تھی، جس پر انہیں گیسٹ پلیئر کے طور پر او جی ڈی سی ایل کی ٹیم میں شامل کیا گیا تھا۔

سوشل میڈیا صارفین نے بابر اعظم کی کارکردگی کو ان کے زوال کا تسلسل قرار دیا ہے۔

اکتیس سالہ بیٹر نے دسمبر 2022 کے بعد سے ٹیسٹ کرکٹ میں کوئی سنچری اسکور نہیں کی ہے اور ان کی رنز بنانے کے اوسط میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔

حال ہی میں انگلینڈ کے دورے کے دوران انگلش فاسٹ باؤلرز نے شارٹ بال کے ذریعے ان کی تکنیکی کمزوریوں کو بے نقاب کیا تھا، جس کے بعد ان کی فارم پر مسلسل تنقید کی جا رہی تھی۔

انگلینڈ کے خلاف تین صفر سے سیریز ہارنے اور ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ میچ کے بعد بابر اعظم پر بڑا اسکور بنانے کا شدید دباؤ ہے۔

اگرچہ انہوں نے حالیہ ٹیسٹ میچوں میں کچھ نصف سنچریاں بنائی ہیں، لیکن وہ ان اننگز کو بڑی سنچریوں میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

2019 کے بعد پہلی بار ڈومیسٹک فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنے والے بابر اعظم کے لیے یہ شروعات امیدوں کے برعکس رہی ہے اور اب کرکٹ شائقین کی نظریں ان کی اگلی اننگز پر جم گئی ہیں۔

Related posts