’پارٹی کے دوران ڈیانا آپے سے باہر ہوئی‘: آذربائیجانی خاتون سے مبینہ زیادتی کیس میں ملزمان کے بیانات ریکارڈ
لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں نئے شواہد، عدالتی بیانات اور سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے ہیں۔ لاہور کی کینٹ کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ اظہر محمود کی عدالت نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے گرفتار ملزمہ مسکان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، جبکہ پولیس نے ملزمان کے بیانات ریکارڈ کرنے کے ساتھ ساتھ ڈیفنس کے فلیٹ سے اہم شواہد بھی اکٹھے کر لیے ہیں۔
دوسری جانب خاتون کی پاکستان میں سرگرمیوں سے متعلق جہلم میں ان کے مبینہ نکاح کی دستاویزات اور ایک نوجوان کے ساتھ نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے دوران ملزمہ مسکان نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ میری ڈیانا سے ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی جہاں اس نے نمرہ اور میرے ساتھ موبائل نمبر شیئر کیا اور ہمیں مختلف پارٹیوں میں مدعو کرنے کا کہا۔
کیس کے مرکزی ملزم محسن نے اپنے بیان میں کہا کہ ڈیانا سے میری پہلی ملاقات 25 ستمبر کو ایک نجی سوسائٹی میں ہوئی تھی، جبکہ دوسرے ملزم علی نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈیفنس کے فلیٹ میں پارٹی کے دوران ڈیانا آپے سے باہر ہو گئی تھی اور غازی روڈ پہنچنے پر اس نے گاڑی میں ہاتھا پائی شروع کر دی اور زبردستی گاڑی سے اتر گئی۔
اس سے قبل سماعت کے دوران جب جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزمہ مسکان سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے اپنا میڈیکل کروانا ہے، تو ملزمہ نے جواب دیا کہ نہیں، میں نے اپنا میڈیکل نہیں کروانا۔
دوسری جانب متاثرہ غیر ملکی خاتون ڈیانا نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں دفعہ 164 کے تحت دیے گئے اپنے بیان میں الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد اور بعد میں لاہور آئی تھی جہاں میری ملاقات نمرہ اور مسکان سے ہوئی۔
ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ نمرہ نے ملزمان سے رقم لی جبکہ محسن، احمد اور علی زین نے مجھے اپارٹمنٹ کے ایک الگ کمرے میں بند کر کے زبردستی شراب پلائی اور مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان نے میرا آئی فون، ریڈمی موبائل فون اور دو لاکھ روپے نقد رقم سے بھرا بیگ چھین لیا اور گاڑی سے باہر دھکا دے دیا، جس کے بعد مقامی شہریوں کی مدد سے پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس تفتیش کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک دو لڑکیوں اور تین مردوں سمیت پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور ان کے چھ قریبی دوستوں سے بھی تفتیش جاری ہے۔
تفتیشی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں مبینہ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے سے ان کی تصاویر اور پنجاب اسمبلی کے دورے کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لی گئی ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ خاتون کے دونوں موبائل فونز اور رقم کی برآمدگی کے لیے کارروائی جاری ہے اور پراسیکیوٹر کی جانب سے مانگے گئے تمام ریکارڈ کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔