مری وین حادثہ: جھلسنے والی بچی جان کی بازی ہار گئی، ایک بچے کی حالت تشویشناک
گزشتہ روز مری میں پیش آنے والے اسکول وین حادثے میں زخمی ہونے والی چودہ سالہ بچی عائشہ راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں دورانِ علاج دم توڑ گئی ہے، جبکہ ایک زخمی بچے کی حالت تشویشناک ہے۔
مری کے نواحی علاقے مسیاڑی کے قریب سائن روڈ اور بڑاہوتر کے مقام پر دو نجی اسکولوں کے بچوں کو لے جانے والی وین بریک فیل ہونے کے باعث گہری کھائی میں جا گری تھی، جس کے فوراً بعد گاڑی میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔
اس افسوسناک واقعے میں وین میں سوار گیارہ بچے جھلس کر زخمی ہوئے تھے۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 اور پولیس کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں اور بچوں کو وین سے نکال کر فوری طور پر سول اسپتال مری منتقل کیا۔
ڈی پی او مری رضا تنویر سپرا نے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز اسپتال مری میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بدقسمتی سے یہ حادثہ وین کی بریک فیل ہونے کی وجہ سے پیش آیا اور گاڑی کھائی میں گرتے ہی آگ کی لپیٹ میں آگئی۔
انہوں نے بتایا کہ وین میں بارہ بچے سوار تھے جنہیں ڈرائیور نے مختلف علاقوں سے پک کیا تھا۔ حادثے میں چار بچوں کا جسم 25 فیصد سے زائد جھلس گیا۔
ڈی پی او مری رضا تنویر کے مطابق جن بچوں کے جسم زیادہ جھلس گئے تھے انہیں فوری طور پر راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال میں ریفر کر دیا گیا، جن میں چودہ سالہ عائشہ بھی شامل تھی جو 42 فیصد جھلسنے کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی۔
متاثرہ بچوں میں آٹھ سالہ ارحم تقریباً 38 فیصد جبکہ آٹھ سالہ حسن طالب 26 فیصد جھلسنے سے شدید زخمی ہوئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈی ایچ کیو اسپتال مری میں زیرِ علاج باقی آٹھ بچوں کی حالت مستحکم ہے، جن میں سے دو بچے جھلسنے سے مکمل محفوظ رہے جبکہ چھ بچوں کو 10 فیصد سے کم زخم آئے ہیں۔
مری میں گاڑیوں میں آگ لگنے کے یکے بعد دیگرے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈی پی او مری کا کہنا تھا کہ دو ماہ پہلے بھی مری میں وین میں آگ لگنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ اس واقعے کے بعد ہم گاڑیوں کی فٹنس چیکنگ کا دائرہ کار لوکل شاہراہوں اور دیہاتوں کے اندر تک لے کر جائیں گے اور تمام مقامی گاڑیوں کی کاغذی و فنی فٹنس کی سخت جانچ پڑتال کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے دردناک حادثات کی روکتھام ممکن بنائی جا سکے۔