آذربائیجانی خاتون محسن کے ساتھ کمرے میں گئیں تو دوستوں نے 45 ہزار روپے دیے: ملزمہ مسکان

لاہور میں آذربائیجان سے تعلق رکھنے والی غیر ملکی خاتون ڈیانا سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں گرفتار ملزمہ مسکان نے نئے انکشافات کیے ہیں۔

تفتیشی ذرائع کے مطابق پولیس کی زیرِ تحویل ملزمہ مسکان نے بتایا کہ جب ڈیانا ملزم محسن کے ساتھ کمرے میں گئی تو دیگر دوستوں نے 45 ہزار روپے دیے، تاہم جب ڈیانا کمرے سے باہر آئی تو مسکان اور اس کی دوست نمرہ وہاں سے جا چکی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعد میں ملزمان نے مسکان اور نمرہ سے رابطہ کر کے بتایا کہ ڈیانا دو لاکھ روپے کا مطالبہ کر رہی ہے، جس پر معاملہ خراب ہونے کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے دونوں لڑکیوں نے ڈیانا اور تینوں ملزمان سے اپنا تمام تر رابطہ ختم کر دیا۔

تفتیشی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار ملزمان اور متاثرہ غیر ملکی خاتون کو جلد ہی ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی لے جایا جائے گا جہاں ان کے نمونے حاصل کیے جائیں گے تاکہ سائنسی بنیادوں پر حقائق کو سامنے لایا جا سکے۔

دوسری جانب ڈیانا کی پاکستان میں سرگرمیوں کے حوالے سے جہلم میں ان کے مبینہ نکاح کی دستاویزات اور ایک نوجوان کے ساتھ نئی ویڈیو سامنے آئی ہے جس نے پولیس تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔

عدالتی کارروائی کے دوران مسکان نے اپنے بیان میں کہا کہ میری ڈیانا سے ایک پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی جہاں اس نے اپنا موبائل نمبر شیئر کیا اور ہمیں مختلف تقاریب میں مدعو کرنے کا کہا۔

کیس کے مرکزی ملزم محسن نے بتایا کہ ڈیانا سے میری پہلی ملاقات 25 ستمبر کو ایک نجی سوسائٹی میں ہوئی تھی، جبکہ دوسرے ملزم علی نے مؤقف اختیار کیا کہ فلیٹ میں پارٹی کے دوران ڈیانا آپے سے باہر ہو گئی تھی اور غازی روڈ پہنچنے پر اس نے گاڑی میں ہاتھا پائی کر کے زبردستی اترنے کی کوشش کی۔

اس کے برعکس متاثرہ غیر ملکی خاتون ڈیانا نے جوڈیشل مجسٹریٹ محمد صغیر کی عدالت میں دفعہ 164 کے تحت دیے گئے اپنے بیان میں سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ میں 13 ستمبر کو استنبول سے اسلام آباد اور بعد میں لاہور آئی تھی جہاں میری ملاقات نمرہ اور مسکان سے ہوئی۔

ڈیانا نے عدالت کو بتایا کہ ان کی دوست نمرہ نے ایک تقریب کے لیے ملزمان سے رقم لی جبکہ محسن، احمد اور علی زین نے انہیں اپارٹمنٹ کے ایک الگ کمرے میں بند کر کے زبردستی شراب پلائی اور مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ ملزمان نے ان کا آئی فون، ریڈمی موبائل اور دو لاکھ روپے نقد رقم سے بھرا بیگ بھی چھین لیا اور گاڑی سے باہر دھکا دے دیا، جس کے بعد مقامی شہریوں کی مدد سے پولیس ایمرجنسی نمبر 15 پر اطلاع دی گئی۔

پولیس تفتیش کے مطابق تھانہ ڈیفنس سی میں درج مقدمے پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک دو لڑکیوں اور تین مردوں سمیت ۵ افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے اور ان کے ۶ قریبی دوستوں سے بھی تفتیش جاری ہے۔ تفتیشی ذرائع نے بتایا ہے کہ متاثرہ خاتون کی میڈیکل رپورٹ میں مبینہ زیادتی کی ابتدائی تصدیق ہوئی ہے جبکہ جوہر ٹاؤن کے ایک کیفے سے تصاویر اور پنجاب اسمبلی کے دورے کی ویڈیوز بھی ریکارڈ کا حصہ بنا لی گئی ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق چھینے گئے موبائل فونز اور رقم کی برآمدگی کے لیے کارروائی جاری ہے اور ہائی پروفائل کیس کی شفاف تفتیش کے لیے پراسیکیوٹر کی جانب سے مانگے گئے تمام ریکارڈ کا قانونی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Related posts