پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، صوبوں سے بات کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے، ترجمان پاک فوج

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا کام سیاست کرنا اور حکومتیں بنانا ہے، پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے جو کچھ کرنا پڑا کیا جائے گا اور سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

جمعرات کو ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کی پریس کانفرنس کے دوران ایک خاتون صحافی نے سوال کیا کہ کے پی میں موجود بعض سیاسی رہنما افغان طالبان کی مذمت کرتے دکھائی نہیں دیتے اور اب بھی افغان طالبان رجیم کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے نظر آتے ہیں، جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیاسی صورتِ حال اور دہشت گردی کے خلاف قومی ردعمل کے حوالے سے بات کی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کا سامنا کرنے کے طریقے کے بارے میں مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہوسکتی ہے، اس پر کوئی مسئلہ نہیں، تاہم پاکستان دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بحث و مباحثے کے نتیجے میں نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اور اسی کے نتیجے میں وژن عزمِ استحکام سامنے آیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیاست دانوں نے متفقہ دستاویز بنائی ہے تو اسے فالو کیا جانا چاہیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ردعمل کے بیانیے میں ابہام پیدا کرنا اور اس حوالے سے صلاحیت سازی نہ کرنا عدم اہلیت اور عدم سمجھ بوجھ کا رویہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے سوالات سامنے آئیں تو سب سے اہم بات ریاست ہے، ریاست ہے تو سیاست ہے اور ریاست ہے تو جمہوریت ہے۔ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان کو بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی کا سامنا ہے۔

سیاسی جماعتوں کے کردار کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں حکومتیں بناتی ہیں اور سیاست کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے، پاک فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبوں سے بات کرنا وفاقی حکومت کا کام ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ وہ بار بار کہہ چکے ہیں کہ سیاست سے متعلق کسی بھی چیز کا جواب نہیں دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملکی سلامتی کے لیے جو کرنا پڑا کریں گے، جب کہ قومی سیکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان حق پر کھڑا ہے اور حق کا مسافر ہے۔

مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان اس پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ حرمین شریفین کا دفاع اور سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے پاکستان تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مکہ دفاعی معاہدے کے حوالے سے میڈیا پر بات نہیں کی جا سکتی۔

بھارت سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کوئی ڈراما کرنا چاہتا ہے تو کرکے دیکھ لے، پاکستان دشمن کے ہر اقدام کے لیے مکمل تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کچھ کرنا چاہتا ہے تو آجائے، پاکستان کا ردعمل سخت ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پاکستان کا پالا گھٹیا دشمن سے پڑا ہے۔

Related posts