امریکا اور ایران کا پاکستان کو ثالث تسلیم کرنا شاندار ہے: سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کا پاکستان کو ثالث تسلیم کرنا شاندار ہے، دونوں فریقوں کا پاکستان پر اعتماد انتہائی اہم ہے اور یہ دنیا میں پاکستان کے قابل اعتماد ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ پاکستان کا اقوام متحدہ میں خصوصی کردار ہے اور وہ عالمی مباحثوں میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ پاکستان نے کثیرالجہتی نظام اور مذاکرات کی اقدار کو برقرار رکھا ہے جبکہ اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بھی پاکستان نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی مرد و خواتین نے اقوام متحدہ کے امن مشنز میں بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان خود دہشت گردی کے خلاف مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، اس کے باوجود عالمی امن کے لیے پاکستان کی خدمات قابل ذکر ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے امریکا ایران تنازع میں پاکستانی قیادت کے کردار کو بھی سراہا۔

گوتریس نے کہا کہ تمام مسائل مذاکرات اور بات چیت سے حل ہوسکتے ہیں، تنازعات کے حل کے لیے ان کا دفتر ہر وقت حاضر ہے۔

فلسطین کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں۔ غزہ امن منصوبے پر فوری عملدرآمد ہونا چاہیے اور فلسطینیوں کی مشکلات کا خاتمہ ضروری ہے۔

انتونیو گوتریس نے کہا کہ یوکرین اور خلیج کے تنازعات کے دوران فلسطین کو نہیں بھولنا چاہیے۔ انہوں نے 7 اکتوبر کے حماس حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی مشکلات ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے گوتریس کا کہنا تھا کہ عالمی اخراج میں چند ممالک کا بڑا حصہ ہے، ماحول دشمن اخراج میں کمی ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا دوبارہ دورہ کرکے مسرت ہوئی، ان کا گزشتہ دورہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران ہوا تھا۔

گوتریس نے سلامتی کونسل میں افریقی نمائندگی کم ہونے کے جواز پر بھی سوال اٹھایا۔

انتونیو گوتریس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ دنیا بھر کی صورتحال انتہائی پیچیدہ ہے، ایران، امریکا، حوثیوں اور باب المندب سمیت متعدد مسائل درپیش ہیں۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ کئی معاملات پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں لیکن اصل مسئلہ ان پر عملدرآمد کا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر بھی اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں مگر ان پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایران پر اسرائیلی حملے کی پاکستان نے فوری مذمت کی تھی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے تحمل اور برداشت کی اپیل کی تھی۔

نائب وزیراعظم نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے لیے واضح میکنزم ہونا چاہیے۔ قراردادوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں سزا اور جزا کا نظام بھی ہونا چاہیے تاکہ عالمی فیصلوں پر مؤثر طریقے سے عمل ہوسکے۔

Related posts