میر رضا قتل کیس: ‘سمجھ چکے ہیں کہ کیا ہوا ہے’؛ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی آج مکمل ہوگی

کراچی میں سندھ ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں میر رضا قتل کیس پر قائم ایک رکنی جوڈیشل کمیشن کی کارروائی آج مکمل ہوگی، جس کے بعد کمیشن اپنی رپورٹ مرتب کر کے سندھ حکومت کو پیش کرے گا۔ اس حوالے سے جسٹس عمر سیال کا کہنا ہے ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایت پر چوبیس اگست کو قائم ہونے والے اس کمیشن نے چوالیس روز تک کیس کی تمام تر باریکیوں، گواہوں کے بیانات، ڈیجیٹل ثبوتوں اور جائے وقوعہ کا جائزہ لیا۔

آج آخری سماعت پر سی پی ایل سی کے نمائندے کاشف افتخار اور تفتیشی افسر ڈی ایس پی سراج لشاری اپنی فائنل رپورٹس جمع کرائیں گے، جبکہ کے الیکٹرک کے نمائندے اور میر رضا کے متاثرہ لواحقین بھی اپنے وکلا کے ساتھ ہائیکورٹ میں موجود ہیں۔

میر رضا کے قتل کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی درخواست پر چوبیس اگست کو نوٹیفکیشن جاری ہوا تھا اور کمیشن نے ستائیس اگست سے باقاعدہ کام شروع کیا تھا۔

اس دوران کمیشن نے محکمہ صحت کے حکام، سینئر پولیس افسران، سی پی ایل سی اور کیس سے جڑے دیگر اہم افراد سمیت درجنوں گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔

لواحقین کے مطالبے پر پولیس افسران کو ذاتی حیثیت میں بلانے کے بجائے ان سے تحریری جوابات طلب کیے گئے، جس پر ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کے سیل شدہ جوابات کمیشن کو موصول ہوئے۔

لواحقین کے وکیل جبران ناصر نے پولیس تفتیش میں معلومات کے لیک ہونے اور میر رضا کے ڈیجیٹل ڈیٹا اور کرپٹو ٹریڈنگ کی غلط تشہیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سوالات اٹھائے۔

کمیشن کی تحقیقات میں سی سی ٹی وی فوٹیج اور مشکوک گاڑیوں کی نقل و حرکت کا پہلو اہم پیش رفت ثابت ہوا۔

صحافی بابر سلیم اور آج نیوز کے نمائندے صولت جعفری نے کمیشن کو بریفنگ میں بتایا کہ فوٹیج میں ایک گاڑی گلستانِ جوہر سے میر رضا کا تعاقب کرتی نظر آتی ہے جو گیسٹ ہاؤس کے باہر رکی، جبکہ ایک موٹر سائیکل کی مشکوک نقل و حرکت بھی دیکھی گئی۔

اس کے ساتھ ہی میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ کا پہلو بھی سامنے آیا جس میں آٹھ کروڑ روپے کی مجموعی ٹریڈنگ کی بات کی گئی، تاہم لواحقین کے وکیل نے اس معاملے کو بلاجواز خودکشی سے جوڑنے پر اعتراض اٹھایا۔

کمیشن نے کے الیکٹرک سے بھی اٹھائیس جولائی کو شام پانچ سے دس بجے کے درمیان متعلقہ علاقے میں بجلی کی فراہمی اور لوڈشیڈنگ کی تفصیلات حاصل کی ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ بجلی کی بندش سے سی سی ٹی وی کیمروں پر کوئی اثر تو نہیں پڑا تھا۔

چھ اکتوبر کو جسٹس عمر سیال نے کمیشن کے دیگر ارکان کے ساتھ جائے وقوعہ اور اردگرد کے علاقوں کا دو گھنٹے تک پیدل معائنہ کیا تھا، جہاں انہوں نے آن لائن ٹیکسی سے اترنے کے مقام، گیسٹ ہاؤس، واٹر بورڈ دفتر، نرسری، لاش ملنے کے مقام، مسجد خضرا اور پستول کا خول ملنے والی جگہ کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔

معائنے کے بعد جسٹس عمر سیال نے کہا کہ کمیشن کے سامنے یہ بات آن ریکارڈ آ چکی ہے کہ کس نے کیا کیا اور ہم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ اصل میں کیا ہوا تھا، تاہم کسی حتمی نتیجے یا ذمہ داری کے تعین کے لیے کمیشن کی باقاعدہ رپورٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔

سندھ کابینہ کی جانب سے کمیشن کی مدت پندرہ اکتوبر تک بڑھائی گئی تھی، اور اب تمام شواہد اور تفتیشی رپورٹس کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد جوڈیشل کمیشن اپنی حتمی سفارشات حکومت کو ارسال کرے گا۔

Related posts