دنیا کو ہنسانے والا گینگسٹر: نانا پاٹیکر کی 75 سالہ جدوجہد کی ناقابل فراموش کہانی
بھارتی سنیما کے معروف اداکار نانا پاٹیکر 75 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ہندی اور مراٹھی فلموں میں اپنی منفرد اداکاری، طاقتور مکالموں اور مختلف نوعیت کے کرداروں سے پہچان بنانے والے نانا پاٹیکر کئی دہائیوں تک فلمی دنیا کا اہم نام رہے۔
نانا پاٹیکر8 اکتوبر کی صبح گووا کے علاقے دونا پولا میں واقع اپنی رہائش گاہ پر بے ہوش پائے گئے جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے تقریباً 45 منٹ تک سی پی آر کے ذریعے انہیں بچانے کی کوشش کی، لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔ انہیں صبح 5 بج کر 20 منٹ پر مردہ قرار دیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدائی طبی رپورٹ میں موت کی بڑی وجہ دل کا شدید دورہ بتائی گئی ہے، تاہم پوسٹ مارٹم کی مکمل رپورٹ آنے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔
نانا پاٹیکر کی زندگی تقریباً پانچ دہائیوں پر محیط ایک ایسے فلمی سفر کی کہانی ہے جس میں غربت سے نکل کر کامیابی حاصل کرنے، تھیٹر سے فلموں تک پہنچنے اور مختلف کرداروں کے ذریعے اپنی الگ شناخت بنانے کی مثال ملتی ہے۔
وہ ایک ہی وقت میں خطرناک ولن، غصے سے بھرے ہیرو، سنجیدہ پولیس افسر، خاموش اور دکھی باپ، مزاحیہ گینگسٹر اور عمر رسیدہ تھیٹر اداکار بن سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شناخت صرف ایک خاص قسم کے کردار تک محدود نہیں رہی۔

ابتدائی زندگی اور مشکل بچپن
نانا پاٹیکر کا اصل نام وشواناتھ پاٹیکر تھا۔ وہ یکم جنوری 1951 کو مہاراشٹرا کے مروڈ جنجیرا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ممبئی میں آرٹ کی تعلیم حاصل کی۔ اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے وہ فلمی پوسٹر بناتے، کمرشل آرٹسٹ اور ویژولائزر کے طور پر کام کرتے رہے۔
ان کا بچپن مالی مشکلات میں گزرا۔ نانا پاٹیکر نے بتایا تھا کہ انہوں نے صرف 13 سال کی عمر میں کام شروع کر دیا تھا۔ اس وقت انہیں ماہانہ 35 روپے ملتے تھے اور دن میں ایک وقت کا کھانا دیا جاتا تھا۔ انہوں نے بعد میں کہا کہ کم عمری میں کام شروع کرنے کی وجہ سے انہیں ایسا لگتا تھا جیسے وہ بہت جلد بڑے ہو گئے تھے۔
غربت کے وہ دن ان کی یادوں میں ہمیشہ زندہ رہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ کبھی کھانے کے وقت دوستوں کے گھروں کا رخ کرتے تھے تاکہ شاید انہیں کھانے کے لیے بلا لیا جائے۔ اسی لیے ان کے لیے گرم روٹی کی خوشبو ایک خاص جذباتی اہمیت رکھتی تھی۔

تھیٹر سے اداکاری کا آغاز
فلمی دنیا میں شہرت حاصل کرنے سے پہلے نانا پاٹیکر نے تھیٹر میں اپنی صلاحیتیں نکھاریں۔ ان کے والد انہیں ڈرامے دیکھنے لے جاتے تھے جبکہ تھیٹر ڈائریکٹر وجیا مہتا نے ان کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ شروع میں نانا تھیٹر کی دنیا میں ہی خوش تھے اور انہیں یقین نہیں تھا کہ فلمیں ان کے لیے اتنی بڑی کامیابی لے کر آئیں گی۔
1978 میں فلمی سفر شروع ہوا
اداکارہ اسمرتا پاٹل نے نانا پاٹیکر کو فلموں کی طرف آنے کی حوصلہ افزائی کی۔ 1978 میں انہیں فلم ’گمن‘ میں کام کرنے کا موقع ملا اور یوں ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک کے بعد ایک ایسے کردار ادا کیے جنہوں نے انہیں بھارتی سنیما کے منفرد اداکاروں میں شامل کر دیا۔
’انکش‘، ’سلام بمبئی‘ اور ’پرندہ‘ جیسی فلموں نے انہیں سنجیدہ اداکار کے طور پر شناخت دلائی۔ ’پرندہ‘ میں انا سیٹھ کے کردار نے انہیں خاص شہرت دی اور ان کی طاقتور اداکاری کو بڑے پیمانے پر سراہا گیا۔
نیشنل فلم ایوارڈز کا اعزاز
نانا پاٹیکر نے اپنے کیریئر میں تین مرتبہ نیشنل فلم ایوارڈ حاصل کیا۔ ’پرندہ‘ کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار، ’کروانتی ویر‘ کے لیے بہترین اداکار اور ’اگنی ساکشی‘ کے لیے ایک بار پھر بہترین معاون اداکار کا نیشنل فلم ایوارڈ دیا گیا۔ سرکاری نیشنل فلم ایوارڈ ریکارڈ بھی ’کروانتی ویر‘ کے لیے ان کے بہترین اداکار کا اعزاز درج کرتا ہے۔
2013 میں بھارتی حکومت نے انہیں پدم شری سے بھی نوازا۔ سرکاری پدم ایوارڈ ریکارڈ میں نانا گجانن پاٹیکر کو فن کے شعبے میں پدم شری حاصل کرنے والوں میں شامل کیا گیا ہے۔
نانا پاٹیکر کی اداکاری صرف غصے، سخت مکالموں اور بلند آواز تک محدود نہیں تھی۔ 1996 کی فلم ’خاموشی: دی میوزیکل‘ میں انہوں نے ایک ایسے والد کا کردار ادا کیا جو نہ سن سکتا تھا اور نہ بول سکتا تھا۔

اس کردار میں انہیں اپنے جذبات زیادہ تر چہرے، ہاتھوں اور جسمانی تاثرات کے ذریعے ظاہر کرنے تھے۔ اس فلم نے ثابت کیا کہ نانا پاٹیکر کی اصل طاقت صرف ان کی آواز نہیں بلکہ ان کی مکمل اداکاری تھی۔
2004 کی فلم ’اب تک چھپن‘ میں نانا پاٹیکر نے پولیس افسر سادھو آگاشے کا کردار ادا کیا۔ اس کردار میں انہوں نے ایک ایسے پولیس افسر کو پیش کیا جو خطرناک حالات میں بھی کم بولتا اور پرسکون رہتا ہے۔ اس فلم نے ان کی اداکاری کا ایک اور پہلو شائقین کے سامنے پیش کیا۔
2007 کی کامیڈی فلم ’ویلکم‘ میں نانا پاٹیکر نے گینگسٹر ادے شیٹی کا کردار ادا کیا۔ خطرناک گینگسٹر کا یہ کردار ان کے سابقہ سنجیدہ کرداروں سے بالکل مختلف تھا، لیکن نانا نے اسے مزاحیہ انداز میں اس طرح پیش کیا کہ ادے شیٹی فلم کے سب سے مقبول کرداروں میں شامل ہو گیا۔

ان کے ساتھ انیل کپور کے مجنو بھائی کا کردار بھی بے حد مقبول ہوا۔ دونوں کی جوڑی نے فلم میں کئی یادگار مزاحیہ مناظر پیش کیے۔ ادے شیٹی کے مکالمے اور انداز بعد میں سوشل میڈیا اور عام گفتگو کا بھی حصہ بن گئے۔

2016 کی مراٹھی فلم ’نٹسمرٹ‘ میں نانا پاٹیکر نے عمر رسیدہ تھیٹر اداکار گنپت راؤ بیل والکر کا کردار ادا کیا۔ فلم میں ایک ایسے فنکار کی کہانی دکھائی گئی جو ساری زندگی اسٹیج پر لوگوں کی داد حاصل کرتا ہے لیکن بڑھاپے میں خاندانی مسائل، تنہائی اور بے بسی کا سامنا کرتا ہے۔
نانا پاٹیکر نے اس کردار میں ایک فنکار کی عظمت کے ساتھ اس کی تنہائی اور ٹوٹ پھوٹ کو بھی نمایاں کیا۔ یہ کردار ان کے اپنے تھیٹر پس منظر کے باعث مزید معنی خیز سمجھا گیا۔
نانا پاٹیکر نے صرف اداکاری تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے فلم ’پراہار‘ سے ہدایت کاری میں بھی قدم رکھا اور فلمی دنیا میں ایک اداکار کے ساتھ ساتھ لکھاری اور ہدایت کار کے طور پر بھی اپنی صلاحیتیں دکھائیں۔ ان کا کیریئر ہندی اور مراٹھی سنیما کے ساتھ ساتھ تھیٹر تک پھیلا ہوا تھا۔
ذاتی زندگی کے بڑے دکھ
نانا پاٹیکر کی زندگی میں جہاں کامیابیاں آئیں، وہیں انہیں ذاتی زندگی میں بھی گہرے صدمات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بڑے بیٹے درواسہ پیدائشی طور پر معذوری کا شکار تھے اور صرف ڈھائی سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔
2024 کے ایک انٹرویو میں نانا پاٹیکر نے اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں کھل کر بات کی۔ انہوں نے اس واقعے کو یاد کرتے ہوئے اپنی سوچ، جذبات اور اپنی کمزوریوں کا بھی ذکر کیا۔

تنازعات بھی زندگی کا حصہ رہے
نانا پاٹیکر کی طویل فلمی زندگی تنازعات سے بھی مکمل طور پر پاک نہیں رہی۔ 2018 میں اداکارہ تنوشری دتہ نے 2008 کی ایک فلم کی شوٹنگ کے دوران ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔ نانا پاٹیکر نے ان الزامات کی تردید کی۔ 2019 میں ممبئی پولیس نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر کیس بند کرنے کی رپورٹ پیش کی، جسے تنوشری دتہ نے چیلنج کیا۔
کسانوں اور ضرورت مندوں کے لیے خدمات
فلمی دنیا سے باہر نانا پاٹیکر سماجی کاموں کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔ 2015 میں انہوں نے اداکار مکرند اناسپُرے کے ساتھ ’نام فاؤنڈیشن‘ قائم کی۔ اس ادارے نے مہاراشٹرا میں خشک سالی اور کسانوں کی مشکلات سے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے کام کیا۔
فاؤنڈیشن کے کاموں میں پانی کے تحفظ، نہروں کی بحالی اور دیہی علاقوں کی ترقی جیسے منصوبے شامل رہے۔

نانا پاٹیکر نے عمر کے آخری حصے تک فلموں میں کام جاری رکھا۔ ان کے حالیہ کاموں میں ’ہاؤس فل 5‘، ’او رومیو‘ اور ’سُبیدار‘ شامل ہیں۔
نانا پاٹیکر کی آخری عوامی موجودگی ان کی موت سے صرف چار دن پہلے 4 اکتوبر 2026 کو گوا کے ڈونا پاؤلا میں ہوئی۔ وہ سمرات کلب انٹرنیشنل کی تنصیب کی تقریب میں شریک ہوئے اور وہاں خطاب بھی کیا۔ اس موقع پر وہ سفید کُرتے اور سفید گمچھے میں نظر آئے تھے۔
نانا پاٹیکر کے انتقال کی خبر سامنے آنے کے بعد بھارتی فلمی دنیا میں سوگ کی فضا پیدا ہو گئی۔ مراٹھی اداکار سدھارتھ جادھو نے کہا کہ وہ نانا پاٹیکر کی موت کی خبر سن کر صدمے میں ہیں۔ ان کے مطابق ’یہ جانے کا وقت نہیں تھا‘ اور نانا کے پاس ابھی بہت کچھ کرنے کے لیے باقی تھا۔
اداکارہ سونالی کلکرنی نے بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک عزیز دوست کو کھو دیا ہے۔
نانا پاٹیکر کے انتقال کے ساتھ بھارتی سنیما نے ایک ایسے فنکار کو کھو دیا ہے جس نے اداکاری کو صرف ہیرو اور ولن کے خانوں تک محدود نہیں رکھا۔ ان کے یادگار کردار، مکالمے اور اداکاری کا منفرد انداز آنے والی نسلوں کے لیے بھی بھارتی سنیما کا ایک اہم حصہ رہیں گے۔
ایک ایسے شخص کی کہانی جو 13 سال کی عمر میں معمولی آمدنی پر کام کرنے لگا، فلمی پوسٹر بناتا رہا، تھیٹر میں اپنی جگہ بنائی اور پھر تین نیشنل فلم ایوارڈز اور پدم شری حاصل کرنے والے اداکار کے طور پر دنیا سے رخصت ہوا، نانا پاٹیکر کی زندگی کو جدوجہد، صلاحیت اور کامیابی کی ایک غیر معمولی داستان بناتی ہے۔