جنگ میں ثالثی کے لیے تیار ہیں: روسی صدر کی ایران کو پیشکش

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ماسکو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں میں کردار ادا کرنے اور مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایرانی ہم منصب مسعود پزشکیان سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا ہے کہ روس مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ثالثی کی کوششوں میں مدد کے لیے تیار ہے۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران روس اور ایران کے درمیان تعلقات میں مثبت پیش رفت اور بڑھتے ہوئے تعاون پر تبادلہ خیال کیا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

جنگ سے متعلق گفتگو میں صدر پیوٹن نے کہا کہ بعض ممالک کشیدگی کم کرنے اور ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں، جن کی روس حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو یقین ہونا چاہیے کہ ماسکو بھی اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرنے اور ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

روس اور ایران نے یوکرین میں روسی جنگ کے آغاز کے بعد فوجی اور تجارتی شعبوں میں تعاون مزید بڑھایا ہے۔ دونوں ممالک کا شمار دنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جن پر سب سے زیادہ بین الاقوامی پابندیاں عائد ہیں۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے گزشتہ ماہ اقوام متحدہ میں خطاب کے دوران بھی کہا تھا کہ ماسکو آبنائے ہرمز اور خلیج کے وسیع خطے میں صورتحال کو مستحکم کرنے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

مشرق وسطیٰ کی موجودہ جنگ فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی، جن میں ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای بھی ہلاک ہوئے۔

ایران نے اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، جو جنگ کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے، جبکہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی جوابی ناکہ بندی برقرار رکھی ہوئی ہے۔

Related posts