اسلام آباد میں 25 روز سے سڑکوں پر رکھے کنٹینرز ہٹانے کا عمل جاری

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 25 روز سے سڑکوں پر رکھے کنٹینرز ہٹانے کا عمل جاری ہے۔ آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری نے شہر بھر کی شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں، جس کے بعد کرینیں اور لفٹر مختلف مقامات پر متحرک ہوگئے ہیں۔

وفاقی دارالحکومت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سیکیورٹی اقدامات کے تحت مختلف شاہراہوں، داخلی راستوں اور اہم مقامات پر کنٹینرز رکھ کر راستے بند کردیے گئے تھے۔

ان اقدامات کے باعث متعدد مقامات پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جب کہ بعض راستوں پر شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ سیکیورٹی انتظامات کے دوران موبائل فون سروس بھی معطل کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں تاہم تقریباً 25 روز گزرنے کے بعد سڑکوں کے کنارے اور مختلف راستوں پر موجود کنٹینرز ہٹانے کا کام اب مرحلہ وار شروع کردیا گیا ہے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری نے شہر بھر کی شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کا حکم دیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ شام تک کسی بھی شاہراہ پر کنٹینر موجود نہ ہو۔ انتظامیہ کو تھانوں کے باہر رکھے کنٹینرز فوری طور پر چھوڑنے اور ان سے متعلق دستاویزات ڈرائیوروں کے حوالے کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

کنٹینرز ہٹانے کے کام کا آغاز شاہراہ دستور سے کیا گیا، جس کے بعد شہر کے دیگر علاقوں میں بھی یہ عمل شروع ہوگیا۔ کنٹینرز کی واپسی سے ان کے مالکان اور ڈرائیوروں کو بھی ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

کنٹینرز ہٹانے کے حالیہ احکامات کے بعد شہر کی مختلف شاہراہوں پر ٹریفک کی بحالی کا عمل بتدریج آگے بڑھ رہا ہے تاہم ریڈ زون میں تاحال کنٹینرز موجود ہیں اور وہاں سیکیورٹی برقرار رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بھی ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ وفاقی دارلحکومت سلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع کر دیا گیا ہے، جس سے شہریوں کو آمدورفت میں درپیش مشکلات کے خاتمہ ہو گا اور معمولات زندگی بہال ہو گی، امید ہے اب دوبارہ کنٹینرز لگانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے ابتدا میں 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے مارچ کی تاریخ تبدیل کرکے 4 اکتوبر مقرر کی گئی۔ اس دوران وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی انتظامات سخت کیے اور اہم شاہراہوں، داخلی راستوں اور دیگر مقامات پر کنٹینرز لگا کر راستے بند کردیے۔

مذاکرات کے دوران حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان لانگ مارچ روکنے، سیاسی مطالبات اور بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات سمیت مختلف امور پر اختلافات برقرار رہے۔ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد پی ٹی آئی نے احتجاج جاری رکھا، جب کہ حکومت نے اسلام آباد میں سیکیورٹی مزید سخت کردی۔

احتجاج سے پیدا ہونے والی صورت حال کے دوران حکومت نے کشیدگی کم کرنے اور خیبرپختونخوا حکومت کو اعتماد میں لینے کے لیے رابطے کیے۔ حکومتی سطح پر کوشش کی گئی کہ صوبائی حکومت کو بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ساتھ ملایا جائے جب کہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان مشاورت کا عمل بھی جاری رہا۔

تاہم سیاسی رابطوں اور مذاکرات کے باوجود صورت حال میں کشیدگی برقرار رہی، جس کے بعد وفاقی حکومت نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔

صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی منظوری دی۔ اس اقدام کی وجوہات میں صوبے میں دہشت گردی کی صورت حال اور صوبائی حکومت کے ردعمل سے متعلق تحفظات بیان کیے گئے۔

گورنر راج کے تحت صوبے کے انتظامی امور گورنر کے ذریعے چلانے اور ان کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ کونسل میں طارق محمود پاشا، ڈاکٹر عامر عبداللہ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر، ثمر بلور، ڈاکٹر سرفراز علی، عامر جاوید، ڈاکٹر ایم ارشاد، کفایت اللہ، طیب قریشی، عثمان سیف اللہ خان اور آصف رفیق شامل ہیں۔

وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کے مطابق گورنر راج کے تحت وزیراعلیٰ، صوبائی کابینہ اور مشیروں کے اختیارات گورنر کو منتقل کردیے گئے ہیں۔ صوبے کے انتظامی امور چلانے کے لیے مشاورتی کونسل کے قیام کے علاوہ 12 اضلاع کے معاملات کی نگرانی کے لیے گورنر اور چیف سیکریٹری کے تحت الگ سیکریٹریٹ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

خیبرپختونخوا میں امن و امان برقرار رکھنے اور سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے آئین کے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا۔

گورنر راج کے نفاذ کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی کے بعض صوبائی رہنماؤں کی حراست کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی نے حکومتی اقدام پر اعتراض کیا جب کہ وفاقی حکومت نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کو صوبے میں سکیورٹی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات سے متعلق قرار دیا۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے اسے مذاکرات کے عمل کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے جب کہ ان کی جماعت نے اس اقدام کے خلاف سیاسی اور جمہوری طریقے سے ردعمل دینے کا اعلان کیا۔

خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد اسلام آباد میں بھی حالات بتدریج معمول پر آنے لگے ہیں۔ آئی جی اسلام آباد سہیل چوہدری کے احکامات پر شہر کی مختلف شاہراہوں سے کنٹینرز ہٹانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

کنٹینرز ہٹانے کا آغاز شاہراہ دستور سے کیا گیا، جس کے بعد دیگر شاہراہوں پر بھی کرینیں اور لفٹر متحرک ہوگئے۔ انتظامیہ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ سڑکوں سے کنٹینرز ہٹا کر ٹریفک کی روانی بحال کی جائے۔ تاہم ریڈ زون میں کنٹینرز تاحال موجود ہیں اور وہاں سکیورٹی انتظامات برقرار ہیں۔

Related posts