‘ریاست کا موڈ کیا ہے’: پولیس مقابلے میں ملتان واقعے کے ملزم کی ہلاکت پر تبصرے
ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کو گاڑی سے کچلنے والے ملزم کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض صارفین نے اس واقعے کو فوری انصاف قرار دیتے ہوئے سراہا، جبکہ صحافیوں اور دیگر افراد نے ماورائے عدالت ہلاکتوں، پولیس کی تفتیش اور عدالتی نظام کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔
پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے بدھ کو اطلاع دی کہ توقیر نذیر نامی ایک ملزم منتقلی کے دوران فرار ہوا اور بعدازاں پولیس مقابلے کے دوران مارا گیا۔ توقیر پر الزام تھا کہ اس نے منگل کو ایک 15 سالہ یتیم بچے وسیم کو گاڑی کے نیچے روند کر مار ڈالا تھا۔
وسیم عباس اور اس توقیر نذیر کی موت کی خبروں نے فوراً عوامی توجہ حاصل کی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔
جاوید بحرانی نامی ’ایکس‘ صارف نے لکھا کہ ’’طریقہ تو غلط ہے مگر عوام کو اس خبر سے بہت سکون ملا ہے‘‘۔
ساتھ ہی انہوں نے ماورائے عدالت قتل کو سنگین جرم قرار دیا اور کہا کہ عوامی جذبات فوری انصاف کے طالب تھے۔

اسی طرح سپریم کورٹ کی وکیل تبسم غضنفر نے ملزم توقیر کی ہلاکت پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ’’تیز ترین لیکن صحیح انصاف‘‘ قرار دیا اور لکھا کہ وسیم عباس کا واقعہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ تھا اور وہ دو راتیں سو نہیں سکیں۔

اسی طرح ن لیگی حامی رانا یوسف نون نے لکھا، ’’الحمدللہ کلیجے کو ٹھنڈ پڑ گئی، یہ پنجاب ہے یہاں موقع پر انصاف ہوتا ہے۔‘‘

دوسری جانب پنجاب میں سی سی ڈی کے کردار کو بھی سراہا گیا۔
عاصم سلیم عباسی نامی ایکس صارف نے کہا کہ ”اگر کوئی طاقتور شخص ظلم کرنے سے پہلے سوچے تو اسے بتایا جائے کہ پنجاب میں سی سی ڈی موجود ہے۔“
انہوں نے سی سی ڈی بنانے کے فیصلے کو وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے منسوب کرتے ہوئے اسے سراہا۔

دوسری جانب بعض صحافیوں نے ’”ماورائے عدالت“ ہلاکتوں کو انصاف کی فراہمی کے نظام کے لیے ایک سنجیدہ سوال قرار دیا۔
صحافی زاہد گشکوری نے لکھا کہ ایک ہی رات میں پیش آنے والے دو واقعات نے عدالتی اور پولیس کی تفتیش کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق لائبہ اعجاز کے کیس کے ملزم اور وسیم عباس کے قتل کے مبینہ ملزم کی ہلاکتوں کے بعد یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ معاشرہ اور ادارے کس سمت جا رہے ہیں۔

جبکہ اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے مبینہ پولیس مقابلے کو ”ایک عجب معاملہ“ قرار دیا۔

اینکر پرسن سعدیہ خالد نے بھی ان واقعات کو ریاست کے اس پیغام سے تعبیر کیا کہ اب مجرموں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ انہوں نے ملتان میں توقیر نذیر اور اسلام آباد میں لائبہ اعجاز کے کیس کے ملزم نعمان کی ہلاکتوں کا حوالہ دیا۔

صحافی عامر سعید عباسی نے پنجاب کی حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ کی ایک پوسٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ”مبینہ پولیس مقابلے میں ملزم کی ہلاکت کو ’فوری انصاف‘ قرار دینا اس تاثر کو جنم دیتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ اور اس کے ماتحت عدالتیں انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہیں۔“

حنا پرویز بٹ نے ’ایکس‘ پر جاری اپنی پوسٹ میں ملزم توقیر کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا تھا: ”یہ مریم نواز صاحبہ کی حکومت ہے، یہاں فوری انصاف ملتا ہے“۔

تاہم، بعد میں انہوں نے اپنی یہ پوسٹ اپنے ایکس اکاؤنٹ سے حذف کردی۔
صحافی نادر بلوچ نے اس بحث کو قانون کی حکمرانی اور طاقت کے استعمال کے درمیان فرق سے جوڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ”کسی ملزم کو عدالت سے سزا دلوانا ریاست کی ذمہ داری ہے اور بغیر مقدمہ چلائے اسے ہلاک کرنا انصاف نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی کے لیے سوالیہ نشان ہے۔“

وسیم عباس کی موت سے توقیر نذیر کی ہلاکت تک
19 اکتوبر کو ملتان کے علاقے رائل آرچرڈ میں پیش آنے والے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک سفید شلوار قمیض پہنے لڑکے کو گلی میں بھاگتے اور ایک گاڑی کو اس کا تعاقب کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
فوٹیج میں گاڑی لڑکے کو ٹکر مارتی دکھائی دیتی ہے، جس کے بعد وہ زمین پر گر جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق لڑکے کی شناخت وسیم عباس کے نام سے ہوئی تھی اور اس کی عمر 15 سے 16 سال کے درمیان تھی۔
پولیس کے ابتدائی بیان کے مطابق وسیم اور اس کا چھوٹا بھائی ملتان کے ایک یتیم خانے میں رہتے تھے اور وسیم کو واقعے سے تقریباً سات روز پہلے الیکٹریشن کا کام سیکھنے کے لیے ایک ٹھیکیدار کے پاس بھیجا گیا تھا۔
مقدمے میں درج بیان کے مطابق وسیم کے ایک رشتہ دار نے پولیس کو بتایا کہ ٹھیکیدار اور اس کے ساتھی لڑکے پر تشدد کرتے تھے اور وہ جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ تاہم یہ الزامات تفتیش کا حصہ ہیں۔
گرفتار ملزم کا مؤقف تھا کہ اس کا لڑکے کو جان بوجھ کر قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا اور وہ گاڑی سے اسے روکنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن گاڑی پھسلنے کے باعث ٹکر لگی۔
وسیم کی ہلاکت کے بعد گرفتار کیے گئے توقیر نذیر کو 20 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں اسے چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ بعد ازاں پنجاب کے کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) نے دعویٰ کیا کہ توقیر پولیس تحویل سے فرار ہو گیا تھا اور بہاولپور بائی پاس کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا۔
سی سی ڈی کی جانب سے بیان کردہ تفصیلات کے مطابق توقیر کو ملتان منتقل کیا جا رہا تھا کہ رات تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر پولیس گاڑی کا پچھلا ٹائر پنکچر ہو گیا۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا کہ اس دوران دو موٹر سائیکلوں پر سوار تین افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کی اور توقیر کو فرار ہونے میں مدد دی۔
بعد ازاں بہاولپور میں درج ایک الگ مقدمے کے مطابق رات تقریباً تین بج کر 15 منٹ پر موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو ایک ناکے پر روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک شخص اپنے ساتھی کی گولی لگنے سے گر گیا، جبکہ دوسرا فرار ہو گیا۔
بعد میں سی سی ڈی نے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت توقیر نذیر کے طور پر کی۔
سی سی ڈی کے مطابق وسیم کے مقدمے میں دوسرے ملزم امجد کی گرفتاری کے لیے چھاپے بھی مارے جا رہے ہیں۔