ندیم نانی والا کی سنگین الزامات میں زیرِ حراست بہن کو چھوڑنے پر پولیس اہلکار معطل

لاہور میں ٹک ٹاکر ندیم نانی والا کی بہن سعمیہ مبارک کو حراست میں لینے کے بعد مبینہ طور پر پیسے لے کر چھوڑنے کے معاملے پر پولیس کے تین اہلکاروں کو عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ کارروائی ڈیفنس بی پولیس کے ایس ایچ او، محرر اور ایک لیڈی کانسٹیبل کے خلاف کی گئی ہے۔

سعمیہ مبارک لاہور کے علاقے ڈیفنس بی میں بغیر نمبر پلیٹ کی لگژری اوڈی گاڑی چلا رہی تھیں۔ پولیس نے انہیں ناکے پر روکنے کی کوشش کی تو وہ مبینہ طور پر گاڑی لے کر فرار ہوگئیں۔ اس دوران گاڑی کی ٹکر سے ایک پولیس کانسٹیبل زخمی ہوگیا۔

پولیس نے تعاقب کرکے سعمیہ مبارک اور ان کی ایک دوست کو حراست میں لے لیا تھا۔ بعد ازاں اس معاملے میں مبینہ طور پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے اختیارات سے تجاوز کرنے اور پیسے لے کر زیرِ حراست افراد کو چھوڑنے کے الزامات سامنے آئے۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے معاملے کی شفاف تحقیقات یقینی بنانے کے لیے ڈیفنس بی کے ایس ایچ او، محرر اور لیڈی کانسٹیبل کو عہدوں سے ہٹانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ واقعے کی انکوائری ایس ایس پی آپریشنز کے سپرد کردی گئی ہے۔

حکام کے مطابق تحقیقات میں الزامات ثابت ہونے کی صورت میں متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔

Related posts