ایران امریکا کشیدگی: حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کردیا

حکومت پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے تناظر میں ملک میں پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل کر دیا ہے اور وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں تمام آئل ریفائنریز کو نئے فارمولے پر فوری عمل درآمد کی ہدایت جاری کی ہے۔

بزنس ریکارڈر کے مطابق، پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے تمام آئل ریفائنریز کو ارسال کیے گئے سرکاری مراسلے کے مطابق، وفاقی کابینہ نے جمعہ کے روز منظور کردہ فیصلے کے تحت یہ قاعدہ مقرر کیا ہے کہ پیٹرول کی درآمدی قیمت کا تعین اب پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

حکومتی پالیسی کے مطابق، اگر روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے وقت پی ایس او کے متعلقہ کارگو کی اصل درآمدی لاگت دستیاب نہ ہو تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو پیٹرول کی درآمدی قیمت متعین کرنے کے لیے معیار بنایا جائے گا۔

اس کے ساتھ ہی، آئل ریفائنریز کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آنے والے 30 روز کے لیے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت سات مارچ 2026 (علاقائی کشیدگی و جنگ کے آغاز سے قبل) کی سطح پر پریمیم، اضافی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی مقرر کر کے وصول کر سکیں گی۔

نئے فارمولے کے تحت اصل درآمدی قیمت اور طے شدہ ایکس ریفائنری قیمت کے مابین پیدا ہونے والے مالیاتی فرق کو ریفائنریز کے پاس رکھنے کے بجائے پیٹرولیم لیوی کے سرکاری اکاؤنٹ میں جمع کرانے کا پابند بنایا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں اس ردوبدل کے نتیجے میں جو مالی فائدہ حاصل ہوگا، وہ براہِ راست اور اسی تناسب سے صرف موٹر اسپرٹ (ایم ایس) یعنی پیٹرول کے صارفین کو قیمت میں کمی کی صورت میں منتقل کیا جائے گا۔

پیٹرولیم ڈویژن نے عمل درآمد کے عمل کو شفاف بنانے کے لیے تمام ریفائنریز کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور وقتاً فوقتاً جاری ہونے والے پیٹرولیم لیوی کے نوٹیفکیشن میں درج تفصیلات کی روشنی میں اضافی رقم جمع کرائیں۔

اس کے علاوہ، تمام ریفائنریز پر یہ لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ مقامی مارکیٹ میں پیٹرول کی روزانہ فروخت کی تفصیلی رپورٹس، سی پی آرز اور چالان سمیت، پیٹرولیم ڈویژن اور اوگرا کو باقاعدگی سے جمع کرائیں تاکہ تمام حسابات کی ضروری تصدیق اور مطابقت کا عمل شفاف انداز میں مکمل کیا جا سکے۔

Related posts