اسلام آباد کا ‘ون کانسٹیٹیوشن ایونیو’ اسکینڈل کیا ہے؟

اسلام آباد کے ریڈ زون میں وزیراعظم ہاؤس کے قریب واقع ایک لگژری عمارت تقریباً 20 سال سے قانونی، انتظامی اور مالی تنازع کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ جس 13 ایکڑ سرکاری زمین پر اصل میں فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کیا جانا تھا، وہاں اب دو بلند و بالا رہائشی ٹاورز کھڑے ہیں جن کے لگژری اپارٹمنٹس فروخت کیے جا چکے ہیں۔

بیس سال قبل اس منصوبے کی تشہیر ’ون کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ کے نام سے کی گئی۔ جب زمین کی لیز، تعمیرات کی منظوری، اپارٹمنٹس کی فروخت اور سرکاری افسران کے مبینہ کردار پر سوالات اٹھے تو معاملہ مختلف عدالتوں سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ تک جا پہنچا، جہاں 2019 میں 17.5 ارب روپے کی ادائیگی کی شرط پر منصوبے کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی۔ لیکن جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق، مقررہ رقم میں سے تقریباً 3 ارب روپے ہی ادا کیے گئے۔

اب 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد لیز کی منسوخی اور عمارت خالی کرانے کی کارروائی شروع ہو چکی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف کی قائم کردہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے اپنی رپورٹ میں ڈیویلپر اور بعض سابق سرکاری افسران کے مبینہ کردار کی نشاندہی کی ہے۔

وفاقی کابینہ نے جے آئی ٹی رپورٹ کو منظوری دیتے ہوئے منصوبے کو دوبارہ فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کرنے، شفاف طریقے سے نیلام کرنے اور متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی اصل سرمایہ کاری واپس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے تقریباً دو دہائیاں پیچھے جانا ہوگا، جب 2005 میں کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے اسلام آباد کے انتہائی اہم علاقے ’کانسٹیٹیوشن ایونیو‘ پر واقع تقریباً 13 ایکڑ اراضی کی نیلامی کی۔

یہ زمین عام تجارتی یا رہائشی استعمال کے لیے نہیں بلکہ ایک فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے مقصد کے لیے مختص کی گئی تھی۔ منصوبے کے تحت یہاں ’گرینڈ حیات‘ کے نام سے بین الاقوامی معیار کا ہوٹل تعمیر کیا جانا تھا، جس سے وفاقی دارالحکومت میں اعلیٰ معیار کی رہائشی، کاروباری اور سیاحتی سہولتیں فراہم کرنے کی توقع تھی۔

اس نیلامی میں کامیاب ہونے والی کمپنی ’بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ‘ کو زمین کی ملکیت فروخت نہیں کی گئی تھی بلکہ اسے 99 سالہ مشروط لیز پر دی گئی تھی۔ عام زبان میں لیز کا مطلب یہ ہے کہ زمین کا اصل مالک اپنی ملکیت برقرار رکھتے ہوئے کسی دوسرے فرد یا کمپنی کو ایک مقررہ مدت اور طے شدہ شرائط کے تحت اس کے استعمال کا حق دیتا ہے۔

اس معاملے میں زمین کی مالک سی ڈی اے تھی، جبکہ ڈیویلپر کو اس پر منظور شدہ منصوبے کے مطابق تعمیرات کرنے کا حق حاصل تھا۔ اس لیے 99 سالہ لیز کا مطلب یہ نہیں تھا کہ زمین ہمیشہ کے لیے ڈیویلپر کی ملکیت بن گئی یا اسے اپنی مرضی سے کسی بھی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا تھا۔

اس معاہدے کی بنیادی شرط یہ تھی کہ زمین پر فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے لیز کی شرائط، تعمیراتی منصوبے، مالی ضمانتوں اور متعلقہ منظوریوں کی پابندی ضروری تھی۔ بینک گارنٹی بھی اسی نوعیت کی ایک مالی ضمانت ہوتی ہے، جس کے ذریعے بینک یقین دہانی کراتا ہے کہ اگر کوئی کمپنی معاہدے کی شرائط پوری نہ کرے تو طے شدہ رقم کی حد تک مالی ذمہ داری ادا کی جا سکتی ہے۔

سرکاری منصوبوں میں ایسی ضمانتیں اس لیے لی جاتی ہیں تاکہ کمپنی اپنے وعدوں سے انحراف نہ کرے اور قومی اثاثوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں حکومت کے پاس مالی تحفظ موجود ہو۔

تاہم منصوبے کی کہانی 2007 سے 2013 کے دوران ایک مختلف رخ اختیار کر گئی۔ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق بی این پی نے منظور شدہ فائیو اسٹار ہوٹل تعمیر کرنے کے بجائے وہاں دو بڑے لگژری رہائشی ٹاورز تعمیر کیے۔ ان عمارتوں میں اپارٹمنٹس بنائے گئے اور انہیں ’سروسڈ اپارٹمنٹس‘ کے طور پر مارکیٹ کیا گیا۔

سروسڈ اپارٹمنٹ ایسی رہائشی یونٹ ہوتی ہے جس میں عام رہائش کے ساتھ ہوٹل جیسی بعض سہولتیں بھی فراہم کی جاتی ہیں، مثلاً صفائی، سیکیورٹی، دیکھ بھال اور دیگر خدمات۔ اس طرز کی رہائش کو بعض اوقات طویل مدت کے لیے ہوٹل کی سہولتوں کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔

اب اصل تنازع یہ تھا کہ کیا کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے مختص زمین پر رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کرکے فروخت کیے جا سکتے تھے؟ اگر منصوبے کا مقصد تبدیل کرنا تھا تو کیا اس کے لیے سی ڈی اے اور دیگر متعلقہ اداروں سے باقاعدہ قانونی منظوری حاصل کی گئی تھی؟ اور کیا لیز کی بنیادی شرائط میں تبدیلی کا اختیار متعلقہ حکام کے پاس موجود تھا؟

یہی سوالات بعد میں اس منصوبے کے خلاف قانونی کارروائی کی بنیاد بنے۔

جے آئی ٹی کی 2026 میں سامنے آنے والی رپورٹ کے بارے میں وفاقی وزیر احسن اقبال کے بیان کے مطابق منصوبے کی نیلامی اور بولی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔

رپورٹ میں الزام لگایا گیا کہ مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد میں نرمی کی گئی، بینک گارنٹی کی شرط ختم کی گئی اور لیز کی شرائط میں ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے کمپنی کو فائدہ پہنچا۔

جے آئی ٹی کے مطابق لیز حاصل کرنے والی کمپنی مطلوبہ اہلیت پر بھی پوری نہیں اترتی تھی، جبکہ منصوبے کی منظوری اور قانونی کارروائی کے مختلف مراحل بھی مشکوک تھے۔

رپورٹ میں سی ڈی اے کے بعض افسران کی کوتاہیوں اور مبینہ ملی بھگت کی بھی نشاندہی کی گئی۔ تاہم ان الزامات کو سمجھنے کے لیے یہ فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ کسی سرکاری افسر کے فیصلے یا منظوری پر سوال اٹھنا اور عدالت میں اس کا جرم ثابت ہونا دو الگ معاملات ہیں۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ تحقیقات کا نتیجہ اور مزید کارروائی کی بنیاد فراہم کرتی ہے، لیکن کسی فرد کی مجرمانہ ذمہ داری کا حتمی تعین متعلقہ قانونی کارروائی کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔

منصوبے کے خلاف باضابطہ قانونی کارروائی کا ایک اہم مرحلہ 2016 میں سامنے آیا، جب سی ڈی اے نے لیز کی مبینہ خلاف ورزیوں کی بنیاد پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

اس وقت کے جج جسٹس اطہر من اللہ نے سی ڈی اے کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہوئے منصوبے کو غیر قانونی قرار دیا۔ بنیادی اعتراض یہی تھا کہ زمین جس مقصد کے لیے لیز پر دی گئی تھی، اس کے بجائے وہاں رہائشی اپارٹمنٹس تعمیر کیے گئے اور منصوبے کی نوعیت تبدیل کر دی گئی۔

اس فیصلے کے خلاف ڈویلپر نے اپیل دائر کی اور حکم امتناع حاصل کیا۔ حکم امتناع کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ عدالت کسی معاملے میں مزید فیصلہ ہونے تک کسی کارروائی یا فیصلے پر عارضی طور پر عمل روک دیتی ہے۔ اس آرڈر کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اپیل یا مقدمے کے حتمی فیصلے سے پہلے کسی فریق کو ایسا نقصان نہ پہنچے جس کا بعد میں ازالہ مشکل ہو۔

2018 میں یہ معاملہ دوبارہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے آیا۔ جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں عدالت نے پہلے فیصلے کو برقرار رکھا اور منصوبے کو غیر قانونی قرار دینے کے مؤقف کی توثیق کی۔ اس طرح ڈیویلپر کو دو مرتبہ ہائی کورٹ میں قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم معاملہ یہیں ختم نہیں ہوا اور بالآخر سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

2019 میں اس کیس نے ایک نیا رخ اختیار کیا، جب اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے پر ازخود نوٹس لیا۔ سپریم کورٹ نے معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے منصوبے کو برقرار رکھنے کے لیے ایک مالی شرط عائد کی۔ عدالت نے ڈیویلپر کو 17.5 ارب روپے ادا کرنے کا حکم دیا، جس کی ادائیگی آٹھ سال میں مکمل ہونا تھی۔ اس شرط کے ساتھ منصوبے کو برقرار رکھنے کی اجازت دی گئی، جسے عملی طور پر پہلے سے تعمیر شدہ منصوبے کو مالی ادائیگی کے ذریعے قانونی حیثیت دینے یا ریگولرائز کرنے کی کوشش سمجھا گیا۔

اس معاملے میں سپریم کورٹ کی مقرر کردہ رقم کی ادائیگی اس اجازت کی بنیادی شرط تھی۔ یوں 2016 اور 2018 میں ہائی کورٹ کے فیصلوں کے بعد پیدا ہونے والی قانونی صورت حال تبدیل ہوئی اور منصوبے کو ایک موقع ملا کہ وہ مقررہ رقم ادا کرکے برقرار رہ سکے۔

لیکن اس فیصلے نے تنازع کا مکمل خاتمہ نہیں کیا۔ اصل سوال یہ تھا کہ کیا ڈویلپر 17.5 ارب روپے کی ادائیگی مقررہ مدت میں مکمل کرے گا؟ اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کے قانونی نتائج کیا ہوں گے؟

2019 کے سپریم کورٹ فیصلے میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ ادائیگی کی شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں سی ڈی اے کو لیز منسوخ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔ یہی شرط بعد میں پورے تنازع کا اہم قانونی نکتہ بن گئی۔

2023 کے بعد معاملہ دوبارہ شدت اختیار کرنے لگا، کیونکہ ڈیویلپر کی جانب سے مقررہ رقم کی مکمل ادائیگی نہیں کی گئی۔ کے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق 17.5 ارب روپے میں سے صرف تقریباً 3 ارب روپے ادا کیے گئے، جبکہ باقی رقم واجب الادا رہی۔ اس صورت حال میں سی ڈی اے نے لیز منسوخ کرنے کی کارروائی شروع کی۔ تاہم ڈیویلپر کی جانب سے مختلف قانونی درخواستوں، حکم امتناع اور دیگر عدالتی کارروائیوں کے باعث یہ معاملہ مزید کئی سال تک زیر التوا رہا۔

یہاں بنیادی قانونی سوال یہ تھا کہ جب سپریم کورٹ نے منصوبہ برقرار رکھنے کی مشروط اجازت دی تھی تو اس شرط کی خلاف ورزی کے بعد کیا ڈیویلپر کو زمین پر لیز کا حق برقرار رکھنے کی اجازت دی جا سکتی تھی؟ اور اگر لیز ختم ہو جاتی ہے تو ان لوگوں کی قانونی حیثیت کیا ہوگی جنہوں نے ان اپارٹمنٹس کو خریدنے کے لیے اپنی جمع پونجی لگائی تھی؟

مئی 2026 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے نے اس تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے لیز کی منسوخی کو برقرار رکھا، جس کے بعد منصوبے کی زمین پر ڈیویلپر کے لیز کے حقوق ختم ہو گئے۔

عدالتی فیصلے کے بعد عمارت خالی کرانے اور قبضہ حاصل کرنے کی کارروائی شروع ہوئی۔ اس صورت حال میں اپارٹمنٹس میں رہائش پذیر افراد کے لیے ایک مشکل صورت حال پیدا ہوئی، کیونکہ انہوں نے ممکنہ طور پر لاکھوں یا کروڑوں روپے ادا کرکے یہ یونٹ خریدے تھے اور انہیں توقع تھی کہ وہ طویل عرصے تک ان میں رہ سکیں گے۔ لیکن اب منصوبے کی بنیادی لیز کی منسوخی نے ان کی رہائش اور سرمایہ کاری دونوں کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔

اسی دوران اس معاملے کی تحقیقات کے لیے وزیراعظم کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) قائم کی گئی۔ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کیس کی تحقیقات کے لیے قائم جے آئی ٹی میں نیب، ایف آئی اے، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نمائندے شامل تھے۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بارے میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بتایا کہ تحقیقات میں عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ طور پر اس منصوبے کا مرکزی کردار یا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری، ڈاکٹر فیصل اعوان، اظہر علی چوہدری، ریٹائرڈ بریگیڈیئر نصراللہ اور مرحوم رائے نواز کھرل سمیت دیگر متعلقہ افراد کے کردار کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کے آغاز سے ہی نیلامی اور بولی کے عمل میں ایسی بے ضابطگیاں ہوئیں جن سے ایک مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچا۔ جے آئی ٹی نے الزام لگایا کہ کمپنی کی اہلیت کے معاملے کو نظر انداز کیا گیا، بینک گارنٹی کی شرط میں تبدیلی کی گئی اور سرکاری قواعد میں نرمی کے ذریعے کمپنی کے لیے منصوبہ حاصل کرنا آسان بنایا گیا۔

تحقیقات میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ فائیو اسٹار ہوٹل کے لیے مختص زمین کو بعد میں اپارٹمنٹس کی تعمیر اور فروخت کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے سرکاری زمین کے اصل مقصد کی خلاف ورزی ہوئی۔

جے آئی ٹی کے مطابق سی ڈی اے کے بعض افسران نے اس عمل میں مبینہ طور پر سہولت کاری کی اور منصوبے کی منظوری کے مختلف مراحل میں قواعد کی خلاف ورزیاں ہوئیں۔

رپورٹ میں قومی خزانے کو مالی نقصان پہنچنے اور بعض افراد کو غیر معمولی فوائد حاصل ہونے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عام شہریوں اور سرمایہ کاروں کے متاثر ہونے کا معاملہ بھی اہم قرار دیا گیا۔

جے آئی ٹی نے سفارش کی کہ اس منصوبے سے متعلق مزید تحقیقات کی جائیں اور نیب اس معاملے کو تیزی سے آگے بڑھائے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال کے مطابق نیب کو ہدایت کی گئی ہے کہ نامزد افراد، مبینہ سہولت کاروں اور دیگر متعلقہ کرداروں کی جامع تحقیقات کرکے قانونی کارروائی کی جائے اور تین ماہ کے اندر ریفرنس دائر کرنے کی کوشش کی جائے۔

حکومت نے جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے کے بعد معاملے کو صرف قانونی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے منصوبے کے مستقبل اور متاثرہ سرمایہ کاروں کے تحفظ کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔

احسن اقبال نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کسی بھی بااثر شخص کو تحفظ فراہم نہیں کرے گی اور ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

حکومت کے اعلان کردہ اقدامات میں سب سے اہم متعلقہ کمپنی کو مستقبل کے سرکاری منصوبوں میں حصہ لینے سے روکنا ہے۔ جس کے لیے اسے بلیک لسٹ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

حکومت کا دوسرا بڑا اعلان منصوبے کو اس کے اصل منظور شدہ مقصد کے مطابق بحال کرنا یعنی فائیو اسٹار ہوٹل بنانا ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اعلان کیا ہے کہ ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا قبضہ حکومت کو مل گیا ہے اور اسلام آباد کے شہریوں کو اس عمارت میں جلد فائیو اسٹار ہوٹل کی سہولت ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں سرکاری زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے خلاف کارروائی کی جائے گی اور سرکاری زمین ہر صورت واپس لی جائے گی۔

حکومت کے سامنے سب سے حساس معاملہ ان سرمایہ کاروں کا ہے جنہوں نے اپارٹمنٹس خریدے تھے۔ ان میں سے بعض افراد نے اپنی زندگی کی جمع پونجی اس امید پر لگائی کہ انہیں ایک لگژری رہائشی یونٹ حاصل ہوگا۔ لیکن اگر ڈیویلپر نے لیز کی شرائط کی خلاف ورزی کی اور منصوبے کی قانونی حیثیت برقرار نہ رہ سکی تو ایسے خریداروں کو اس کے نتائج کا سامنا کیوں کرنا پڑے؟ یہی وہ سوال ہے جس کی بنیاد پر حکومت نے متاثرہ سرمایہ کاروں کے مالی تحفظ کا اعلان کیا ہے۔

احسن اقبال کے مطابق حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ متاثرہ سرمایہ کاروں کو ان کی اصل سرمایہ کاری واپس کی جائے گی اور اس رقم پر کائبور کے مطابق اضافی ادائیگی بھی کی جائے گی۔

حکومت نے منصوبے کے نام کی تبدیلی کی سفارش بھی کی ہے۔ احسن اقبال کے مطابق ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا نام مارکیٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا، حالانکہ کانسٹیٹیوشن ایونیو پر واقع پہلی عمارت وزارت خارجہ کی ہے اور وزارتِ خارجہ نے اس پتے پر اپنا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اس اسکینڈل کے بعد حکومت نے مستقبل میں سرکاری زمینوں اور بڑے ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ احسن اقبال کے مطابق سرکاری زمینوں اور منصوبوں کا ریکارڈ ڈیجیٹائز کیا جائے گا تاکہ لیز، معاہدوں، منظوریوں اور دیگر دستاویزات تک رسائی اور ان کی نگرانی بہتر بنائی جا سکے۔

اس کے علاوہ سی ڈی اے اور متعلقہ محکموں میں افسران کی روٹیشن کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے تحت بعض شعبوں میں افسران کو دو سال بعد تبدیل کیا جائے گا۔ اسٹیٹ پلاننگ، انفورسمنٹ اور بلڈنگ کنٹرول جیسے اہم شعبوں میں طویل عرصے سے ایک ہی عہدے پر تعینات افسران کی تبدیلی کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جائے گا۔

اس اقدام کا مقصد یہ ہے کہ کسی ایک افسر یا گروہ کو طویل عرصے تک ایک ہی منصوبے یا محکمے پر غیر معمولی انتظامی اثر و رسوخ حاصل نہ رہے۔

مستقبل کے منصوبوں کے لیے تھرڈ پارٹی پری آڈٹ اور شفاف کنٹریکٹ مینجمنٹ کا نظام مضبوط بنانے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ حکومت نے عمارتوں میں فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔

ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کا معاملہ اب محض ایک لگژری عمارت کی ملکیت یا اپارٹمنٹس کی خرید و فروخت کا تنازع نہیں رہا۔ یہ سرکاری زمین کے استعمال، ریاستی اداروں کی نگرانی، سرکاری افسران کی جواب دہی، عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد اور شہریوں کی سرمایہ کاری کے تحفظ سے جڑا ایک اہم کیس بن چکا ہے۔

Related posts