عدالت کا نجی میڈیکل کالجز کو طلبہ سے وصول کردہ اضافی فیس واپس کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی جانب سے طلبہ سے مقررہ حد سے زیادہ وصول کی گئی فیس واپس کرنے یا آئندہ فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا ہے کہ نجی میڈیکل کالجز اضافی وصول کی گئی فیس 30 ورکنگ دنوں کے اندر طلبہ کو واپس کریں یا ان کی آئندہ فیسوں میں ایڈجسٹ کریں۔

ذرائع کے مطابق جسٹس خالد اسحاق نے نجی میڈیکل کالجز کی جانب سے فیسوں کے تعین اور پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے اختیارات سے متعلق دائر درخواستوں پر 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں عدالت نے کالجز کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فیسوں سے متعلق پی ایم ڈی سی کے نوٹیفکیشنز برقرار رکھے ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ پی ایم ڈی سی کو نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی فیسیں ریگولیٹ کرنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔ کونسل نجی میڈیکل اور ڈینٹل کالجز کی جانب سے وصول کی جانے والی فیسوں کا جائزہ لے سکتی ہے اور اس حوالے سے مقرر کردہ حدود پر عمل درآمد بھی یقینی بنا سکتی ہے۔

تحریری فیصلے کے مطابق نجی میڈیکل کالجز مقررہ حد سے زیادہ فیس وصول کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ کالجز خود بھی فیسوں میں اضافے کے عمل کا حصہ بنے تھے، اس لیے اب وہ فیسوں سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشنز کو چیلنج نہیں کرسکتے۔

لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں اس بات پر بھی زور دیا کہ میڈیکل تعلیم کو محض پیسہ کمانے کا ذریعہ نہیں بنایا جاسکتا بلکہ تعلیمی اداروں پر سماجی ذمہ داریاں بھی عائد ہوتی ہیں۔ عدالت کے مطابق نجی تعلیمی اداروں کو فیسوں کے تعین اور وصولی کے معاملے میں مقررہ ضابطوں کی پابندی کرنا ہوگی۔

عدالت نے طلبہ کے حقوق کے تحفظ سے متعلق اہم ہدایات بھی جاری کیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ فیسوں کے خلاف آواز اٹھانے یا احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاسکتا ہے۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ اگر کسی طالب علم کے ساتھ غیرقانونی سلوک کیا جاتا ہے تو وہ توہین عدالت کی کارروائی کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتا ہے۔

فیصلے کے تحت نجی میڈیکل کالجز کو مقررہ حد سے زائد وصول کی گئی فیس واپس کرنے یا طلبہ کی آئندہ فیسوں میں ایڈجسٹ کرنے کا عمل 30 ورکنگ دنوں میں مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Related posts