ایل پی جی کی نیلامی کا نیا طریقہ کار وضع، حکومت کا قیمتوں میں کمی کے لیے اقدامات کا اعلان

حکومتِ پاکستان نے ملک بھر میں مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کے شدید بحران، غیر منصفانہ قیمتوں اور چند مخصوص گروہوں کی دہائیوں پرانی اجارہ داری کو ختم کرنے کے لیے نیلامی کا ایک شفاف فریم ورک اور نیا طریقہ کار وضع کر دیا ہے۔

وفاقی کابینہ کی جانب سے چار نومبر کو منظور کیے گئے اس فریم ورک کی روشنی میں سیکرٹری پیٹرولیم کی زیرِ صدارت قائم کمیٹی نے نئے نظام کو حتمی شکل دے دی ہے۔

وفاقی وزیرِ توانائی علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ نیا نظام ایل پی جی کی منصفانہ تقسیم، سپلائی چین کے استحکام اور صارفین کو مناسب قیمت پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

نئے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والے ادارے اپنی کل پیداوار کا 10 فیصد حصہ سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کریں گے، جبکہ باقی 90 فیصد مقامی پیداوار میڈیا کی موجودگی میں انتہائی شفاف نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی۔

پرانے کوٹہ سسٹم کو مکمل طور پر منسوخ کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا ہے کہ نیلامی میں ہر اہل کمپنی کو یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ تمام خریداروں کو مساوی مواقع مل سکیں۔

علاوہ ازیں، ایل پی جی کی یومیہ پیداوار کی سخت نگرانی کی جائے گی اور اس سے متعلق تمام اعداد و شمار براہِ راست وزیراعظم کو پیش کیے جائیں گے۔

یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اوپن مارکیٹ میں ایل پی جی کی قیمتیں سرکاری نرخوں سے تقریباً دُگنی سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

وزیرِ توانائی نے تسلیم کیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث پاکستان کی مغربی سرحدوں کی بندش، گیس کی فراہمی میں تناؤ اور منافع خور عناصر کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے بعض علاقوں میں ایل پی جی 700 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے۔

مزید برآں، گیس ذخیرہ کرنے کے بنیادی ڈھانچے کی کمی اور پورٹ پر بڑے گیس بردار جہازوں کی لنگر اندازی کی سہولیات کا نہ ہونا بھی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔

پاکستان میں ایل پی جی کی یومیہ طلب 6500 سے 7000 ٹن ہے جبکہ مقامی پیداوار صرف 2000 سے 2500 ٹن کے درمیان ہے، جس کے باعث ملک کا زیادہ تر انحصار درآمدات پر ہے۔

صورت حال پر قابو پانے کے لیے حکومت نے چار سرکاری اداروں، پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او)، پارکو ایل پی جی، پاکستان ایل این جی لمیٹڈ اور سوئی سدرن گیس ایل پی جی کو فوری طور پر گیس درآمد کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔

حکام کو اس سلسلے میں پیشکشیں موصول ہو چکی ہیں، اور توقع ہے کہ ان اداروں اور نجی شعبے کی جانب سے سستی ایل پی جی کی شمولیت سے قیمتیں گھٹ کر 450 روپے فی کلو تک آ جائیں گی۔

حکومتی پالیسی کے تحت اب آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) مقامی یا درآمدی ایل پی جی کی حتمی قیمت مقرر نہیں کرے گا بلکہ مقامی گیس کی قیمتیں نیلامی کے ذریعے طے پائیں گی۔

مقامی اور درآمدی قیمتوں کے درمیان فرق سے ایک خصوصی فنڈ قائم کیا جائے گا، جس کے ذریعے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق اور غریب ترین افراد کو رعایتی نرخوں پر ایل پی جی کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

حکومت کا عزم ہے کہ آنے والے سردیوں کے موسم میں گھریلو صارفین کو کھانا پکانے کے لیے دن میں کم از کم تین وقت گیس کی فراہمی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

Related posts