ووٹروں کی فہرست کا تنازع: کاکروچ جنتا پارٹی دوبارہ میدان میں آگئی

بھارت میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی پر جاری تنازع ایک بار پھر سڑکوں پر آ گیا ہے۔ نوجوانوں کی قیادت میں کام کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے 2 اکتوبر سے احتجاج شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ طلبہ اور سماجی کارکنوں کے گروپس نئی دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرے کر رہے ہیں۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سی جے پی ممبئی سے اپنی احتجاجی مہم شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جبکہ طلبہ اور سول سوسائٹی سے وابستہ گروپ نئی دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہورہے ہیں۔

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ اگر گیانیش کمار مستعفی نہیں ہوتے تو تنظیم اپنا احتجاج ممبئی سے شروع کرکے ملک کے مختلف شہروں تک لے جائے گی۔ تنظیم نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کی جواب دہی کا مطالبہ کیا ہے۔

تنازع کی جڑ میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی

اس پورے معاملے کا مرکز بھارت میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی، یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن یا ایس آئی آر ہے۔ اس عمل کے تحت تقریباً ایک ارب ووٹرز کی اہلیت اور انتخابی فہرستوں میں موجود ناموں کی دوبارہ جانچ کی جا رہی ہے۔

اپوزیشن جماعتوں اور ناقدین کا الزام ہے کہ نظرثانی کے دوران بڑی تعداد میں ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج ہوئے اور اس عمل سے وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور کمیشن کا مؤقف ہے کہ اس کا عمل قانونی ہے۔

رائٹرز کے مطابق سیاسی تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ گزشتہ سال شروع ہونے والی نظرثانی کے بعد تقریباً 13 کروڑ نام ووٹر لسٹوں سے خارج کیے گئے ہیں۔ تاہم یہ تمام افراد لازماً اہل ووٹر تھے، ایسا کہنا درست نہیں ہوگا، کیونکہ ناموں کے اخراج کی وجوہات میں ووٹر کی منتقلی، وفات یا دیگر انتخابی ریکارڈ سے متعلق مسائل بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اندر سے بھی سوالات اٹھے

اس تنازع کو مزید اہمیت اس وقت ملی جب ’انڈین ایکسپریس‘ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران کمیشن کے بعض فیصلوں پر کم از کم 14 مرتبہ باضابطہ اعتراضات ریکارڈ کرائے تھے۔

یہ اعتراضات ووٹرز کے نام شامل کرنے، نام خارج کرنے، دوبارہ شامل کرنے، ووٹر رجسٹریشن کے طریقہ کار اور انتخابی فہرستوں سے متعلق ڈیجیٹل نظام جیسے معاملات سے متعلق تھے۔ رائٹرز نے بھی اس رپورٹ کو موجودہ تنازع میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بیان کیا ہے۔

ان دونوں الیکشن کمشنرز کے اعتراضات میں انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا اور سافٹ ویئر تک رسائی کے طریقہ کار پر بھی سوالات شامل تھے۔ تاہم الیکشن کمیشن نے ان اختلافات کو ادارے کے معمول کے اندرونی فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ گزشتہ 10 ماہ کے دوران اس کے فیصلے متفقہ رہے۔

الیکشن کمیشن نے سافٹ ویئر کے جائزے کا حکم بھی دیا

تنازع کے دوران الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں سے متعلق اپنے سافٹ ویئر کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا۔ رائٹرز کے مطابق یہ فیصلہ ایک اخبار کی رپورٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انتخابی فہرستوں میں تبدیلیوں اور کمیشن کے اندر اٹھائے گئے سوالات کا ذکر کیا گیا تھا۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ ادارے کے اندر مختلف آرا سامنے آنا غیر معمولی بات نہیں اور اس کے تمام اقدامات قانون کے مطابق کیے گئے ہیں۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں الزام عائد کرتی ہیں کہ ووٹر لسٹوں میں تبدیلیاں سیاسی طور پر مودی کی جماعت کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں۔

سی جے پی کا دباؤ بڑھانے کا منصوبہ

سی جے پی نے 2 اکتوبر سے شروع ہونے والی احتجاجی مہم کو ملک کے دوسرے شہروں تک لے جانے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے بانی ابھجیت دیپکے کے مطابق احتجاج کا مقصد صرف چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرنا نہیں بلکہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل اور الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھانا ہے۔

تنظیم نے 2025 میں تیار کی گئی انتخابی فہرست کو برقرار رکھنے، موجودہ نظرثانی کے عمل کو منجمد کرنے اور مستقبل میں الیکشن کمشنرز کی تقرری کے لیے زیادہ شفاف اور آزاد طریقہ کار کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

حکومت اور کمیشن کا مؤقف مختلف

حکومت، بی جے پی اور الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں جان بوجھ کر سیاسی فائدے کے لیے تبدیلی کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹوں کی صفائی اور تصدیق کا مقصد انتخابی ریکارڈ کو درست رکھنا ہے، جبکہ ادارے کے اندر سامنے آنے والے اختلافات کو معمول کے انتظامی اور فیصلہ سازی کے عمل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

اس تنازع میں اپوزیشن جماعتیں بھی الگ احتجاجی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہیں اور 6 اکتوبر کو چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مزید احتجاج کا اعلان کر چکی ہیں۔ یوں بھارت میں جاری کشیدگی کا مرکز اب صرف ایک سیاسی احتجاج نہیں بلکہ ووٹر لسٹوں، انتخابی عمل کی شفافیت اور الیکشن کمیشن کے کردار پر اٹھنے والے سوالات بن گئے ہیں۔ تاہم ووٹر لسٹوں میں جان بوجھ کر سیاسی فائدے کے لیے تبدیلی کے الزامات کی الیکشن کمیشن اور حکومت تردید کر رہی ہیں۔

Related posts