حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب: لانگ مارچ سے قبل پی ٹی آئی نے تمام حکومتی شرائط مان لیں

وفاقی حکومت اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان چار اکتوبر کے مجوزہ لانگ مارچ اور دیگر اہم سیاسی امور پر جاری مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنی خیبرپخوتنخوا کی حکومت کو گورنر راج یا ایمرجنسی سے بچانے کے لیے حکومت کی تمام شرائط مان لی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، دو دنوں سے جاری ان مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے کے ابتدائی ڈرافٹ کو حتمی شکل دے دی گئی ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے اس پر دستخط بھی کر دیے گئے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ طے پانے والے معاہدے کے نکات کے تحت تحریک انصاف نے دہشت گردی کے خاتمے اور سیکیورٹی معاملات میں ریاست کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور یہ بھی طے پایا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی اور ملاقاتوں کے تمام تر امور کو مکمل طور پر قانون کے مطابق چلایا جائے گا۔

ذرائع نے بتایا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت تحریک انصاف کی جانب سے فوری طور پر لانگ مارچ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آئندہ نہ تو کبھی اسلام آباد کی جانب چڑھائی کی جائے گی اور نہ ہی کوئی ایسا انتشاری طریقہ اختیار کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی سے نپٹنے کے لیے ریاست کی تمام انتظامی ضروریات کو پورا کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر کارکنوں کے جمع ہونے پر پابندی کی بات کی گئی ہے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے بعد کسی بھی قسم کی سیاسی گفتگو میڈیا پر نہ کرنے پر بھی فریقین متفق ہو گئے ہیں۔

بدلے میں حکومت نے اپوزیشن کے چار بنیادی مطالبات تسلیم کیے ہیں جن میں بانی پی ٹی آئی کی بہنوں سمیت تمام رہنماؤں کی نظر بندی کا فوری خاتمہ، عمران خان سے رہنماؤں کی ملاقات، عمران خان اور بشریٰ بی بی کو اسپتال منتقل کرنا اور ان کے مقدمات جلد سے جلد عدالتوں میں سماعت کے لیے مقرر کرانا شامل تھے۔

تاہم معاہدے پر پیش رفت کے دوران اپوزیشن کے اہم رہنما محمود خان اچکزئی کی مذاکرات میں ایک ڈرامائی انٹری ہوئی جس کے بعد صورتحال نے نیا موڑ لے لیا۔

محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران یہ سخت شرط رکھی کہ کسی بھی حتمی اعلان سے قبل سہیل آفریدی کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کرائی جائے۔

انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس بات تک محدود رہو کہ بانی سے ملاقات ہوگی تو ہی کوئی اعلان یا فیصلہ ممکن ہے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی موجودہ سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر ایک اہم بیان دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی لگانا چاہتی تھی لیکن میرا یہ خیال تھا کہ پہلے سیاسی حل ڈھونڈا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پی ٹی آئی کو قائل کرنے کی اجازت دی جائے اور اگر دہشت گردی کنٹرول نہ ہو تو ہمیں پھر شاید مجبوراً ایمرجنسی کی طرف جانا ہو۔

ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ خیبرپختونخوا اور وفاقی حکومت کے درمیان دہشت گردی کے مقابلے کے لیے ایک باقاعدہ تحریری معاہدہ ہونا چاہیے تاکہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف نے چار اکتوبر کو اسلام آباد میں لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے جو اس سے قبل ستائیس ستمبر کو منعقد ہونا تھا، اور اب اس مارچ کے مستقبل پر سیاسی حلقوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔

Related posts