حکومت سے مذاکرات؛ اپوزیشن اور مولانا فضل الرحمان کا آل پارٹیز کانفرنس پر اتفاق
ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال اور خیبرپختونخوا سے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے باعث پیدا ہونے والی کشیدگی پر اپوزیشن اتحاد اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے اور حکومت سے مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو جمہوری حق قرار دیا اور خیبرپختونخوا میں ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ کو مسائل کا حل ماننے سے انکار کیا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قومی سطح پر مشاورت ضروری ہے، جبکہ ملک کے تمام سیاسی مسائل کا حل مذاکرات اور باہمی مشاورت سے ہی ممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں چھوڑی، تاہم تمام جمہوری قوتیں بات چیت کے عمل پر یقین رکھتی ہیں۔
مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملک کی معاشی اور امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں، جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عوام اور ریاست کے درمیان جبر کا رشتہ ختم ہونا چاہیے اور پارٹی اپنے بانی کے لیے آئین و قانون کی جنگ لڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے مذاکرات کے تمام اختیارات محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کے پاس ہیں، حکومت سنجیدگی سے بات چیت کرنا چاہتی ہے تو دونوں رہنماؤں سے رابطہ کرے۔ سلمان اکرم راجہ نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف قومی پلان پر اپوزیشن کو کوئی اختلاف نہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے جائز مطالبات تسلیم نہ کیے تو لانگ مارچ روکنے کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔
انہوں نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار وزیراعلیٰ کو قرار دینا درست نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کے مزید دور ہوتے تو فریقین کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے تھے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف اب بھی سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم حکومت کو خلوصِ نیت سے پیش رفت کرنا ہوگی۔
دوسری جانب سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایوان صدر میں بھی اہم مشاورت ہوئی۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی، جس میں خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کے لانگ مارچ سمیت ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران مذاکراتی کمیٹی کے اراکین نے صدر اور وزیراعظم کو مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور مختلف ادوار کے بارے میں بریفنگ دی۔
ذرائع کے مطابق حکومت اور اتحادی قیادت نے اتفاق کیا ہے کہ خیبرپختونخوا یا اسلام آباد کی صورتحال سے متعلق کسی بھی آئینی یا قانونی اقدام سے قبل تمام اتحادی جماعتوں اور اعلیٰ حکام سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔