کراچی: گھر سے ملنے والی پانچوں لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے

کراچی کے علاقے بن قاسم ٹاؤن میں گھر سے ملنے والی 5 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے، جس کے بعد متوفین کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں۔

کراچی کے علاقے بن قاسم ٹاؤن کی گلشن فلک ناز سے ملنے والی 5 لاشوں میں شامل شاہزیب کے کزن علی منگل کو ایدھی سرد خانے پہنچے اور پانچوں متوفین کی میتیں ایدھی سرد خانے سے وصول کیں۔

شاہزیب کے چچا زاد بھائی علی نے بتایا کہ شاہزیب کی تقریباً 5 سے 6 سال قبل شادی ہوئی تھی اور برسوں سے خاندان سے قطع تعلق کر رکھا تھا۔

علی نے بتایا کہ شاہزیب نے حالیہ دنوں میں اپنا ایک گھر بھی فروخت کیا تھا اور وہ دوسرے گھر میں منتقل ہونے والا تھا، جس کی مالیت تقریباً ڈھائی کروڑ روپے تھی۔

شاہزیب کے کزن کا مزید کہنا تھا کہ شاہزیب نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا، اس بارے میں انہیں کوئی اندازہ نہیں۔ واقعے کے حوالے سے جو بھی قانونی کارروائی ہوگی، وہ ضرور کریں گے۔

پولیس کے مطابق واقعے میں 5 افراد کی لاشیں ملی تھیں، جن کی میتیں ورثا کے حوالے کردی گئی ہیں اور پانچوں کی تدفین بن قاسم ٹاؤن میں گلشن فلک ناز سوسائٹی کے قریب واقع مقامی قبرستان میں کی جائے گی۔

گھر سے ملنے والی 5 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل

اس سے قبل کراچی میں 5 لاشیں ملنے کے معاملے میں اہم پیش رفت بھی سامنے آئی، جہاں بن قاسم ٹاؤن لنک روڈ فلک نازسوسائٹی میں گھر سے ملنے والی  5 لاشوں کا پوسٹ مارٹم منگل کی شب مکمل کرلیا گیا، جس کے بعد تمام لاشیں سہراب گوٹھ ایدھی سرد خانے منتقل کردی گئیں۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید کے مطابق متوفی شاہ زیب اور صبا کی موت سر میں گولی لگنے سے ہوئی ۔ شاہ زیب اور صبا کے جسم سے گن شاٹ ریزیڈیو، کیمیکل اور ڈی این اے کے نمونے حاصل کرلیے گئے۔

انہوں نے بتایاکہ شمائلہ، ایزل اور آریا کی موت کی وجہ تاحال سامنے نہیں آسکی۔ شمائلہ، ایزل اور آریا کی موت کی وجہ کیمیکل، سیرولوجی اور ڈی این اے رپورٹس آنے تک محفوظ کرلی گئی ہیں، ان رپورٹس کی روشنی میں تینوں بچوں کی موت کی وجوہات کا پتا چل سکے گا۔

پولیس سرجن کے مطابق پانچوں لاشوں کے ضروری نمونے لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے حاصل کرلیے گئے ہیں۔

واقعے کا پس منظر

منگل 13 اکتوبر کے روز کراچی کے علاقے بن قاسم ٹاؤن کی گلشن فلک ناز سوسائٹی کے بلاک جے میں ایک گھر سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں ملنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جن میں شاہزیب، ان کی اہلیہ صبا، ان کی بہن شمائلہ، 2 کمسن بیٹیاں ایزل اور آریا شامل تھیں۔

پولیس کے مطابق گھر کا دروازہ اندر سے بند تھا جب کہ شاہزیب اور صبا کے سروں پر گولی لگنے کے نشانات پائے گئے تھے۔

پولیس کو جائے وقوعہ سے ایک مبینہ خط بھی ملا تھا، جس میں مالی مشکلات، بے روزگاری اور رشتے داروں سے شکایات کا ذکر تھا۔ ابتدائی طور پر واقعے کو ممکنہ خودکشی کے پہلو سے دیکھا جا رہا ہے تاہم پانچوں افراد کی موت کی حتمی وجوہات اور واقعے کے محرکات کا تعین تحقیقات اور فرانزک رپورٹس کی روشنی میں کیا جانا ہے۔

Related posts