خیبرپختونخوا کسی لٹیرے کے ہاتھ میں نہیں دیں گے، معدنیات میں دفاعی اداروں کی کوئی ملکیت نہیں: خواجہ آصف

وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دفاعی اداروں کی معدنیات پر کوئی ملکیت نہیں، معدنیات کے لائسنس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دور حکومت میں جاری کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دفاع کے لیے ہزاروں جوانوں نے جام شہادت نوش کیا، ان کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ خیبرپختونخوا میں حالات بہتر ہوں گے اور صوبے میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔

سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ مسلح افواج کے جوانوں نے اپنے خون سے وطن کا دفاع کیا ہے اور جس ادارے کے بارے میں باتیں کی جا رہی ہیں، اس نے اپنی وفاداری کی گواہی اپنے خون سے دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی قیادت آج تک کسی شہید کے جنازے میں شرکت کے لیے نہیں گئی۔

وزیرِ دفاع نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں حالات بہتر ہوں گے اور گورنر راج کے نفاذ پر پارلیمنٹ غور کر سکتی ہے، تاہم اسے ختم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال بہتر ہونے کی ضمانت ہو۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کسی لٹیرے کے ہاتھ میں نہیں دیں گے اور کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ملک میں آئینی اور قانونی نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق مختلف سیاسی کارروائیوں سے اب کام نہیں چلے گا۔

خواجہ آصف نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے متعلق کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہیں، تاہم میڈیا سے پتا چل رہا ہے کہ سہیل آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے باقی جانثار بھی بھاگ چکے ہیں۔

انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ محمود غزنوی کہاں گیا جو اسلام آباد آنے کی باتیں کرتا تھا؟ خواجہ آصف نے کہا کہ ملک کے لیے قربانیاں دینے والے جوانوں کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

سیاسی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے مولانا فضل الرحمان کا ذکر کیا اور کہا کہ پرویز مشرف کے دور میں مولانا فضل الرحمان ان کے اتحادی تھے۔ اس وقت کہا جاتا تھا کہ فضل الرحمان کو مولانا کہنا گناہ ہے، لیکن اب یہی لوگ کہتے ہیں کہ خوش قسمتی سے مولانا ان کے ساتھ ہیں۔

خواجہ آصف نے کہا کہ سیاست دان اپنے بیانات اور مؤقف بدل کر اپنی ساکھ اور وقار کو خود نقصان پہنچاتے ہیں۔ کل جن لوگوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی جاتی تھی، آج انہی کے ساتھ کھڑے ہونے پر فخر کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی اختلافات اور اتحاد دنیا بھر میں ہوتے ہیں، لیکن اصولوں کی بنیاد پر مؤقف تبدیل کرنے اور ذاتی مفادات کے لیے سیاسی قلابازیاں لگانے میں فرق ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ان کے مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ذاتی تعلقات اچھے ہیں، تاہم وہ اس معاملے کو ذاتی تعلقات کے بجائے سیاست دانوں کے طرز عمل کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کے بقول سیاست دانوں کو اپنے ماضی کے بیانات اور آج کے مؤقف کا جواب دینا چاہیے، کیونکہ میڈیا اور عوام ان کے سابقہ بیانات یاد دلاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاست دانوں سے سوال کرنا میڈیا کا حق ہے اور یہ سیاسی احتساب کا اہم ذریعہ ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مسلم لیگ (ن) چاہتی تھی کہ ایک سے ڈیڑھ ماہ میں انتخابات کا اعلان ہو اور ستمبر تک انتخابی عمل مکمل کر لیا جائے، لیکن اس وقت اتحادی جماعتوں کا مؤقف تھا کہ اسمبلیوں کی باقی مدت پوری کی جائے۔ ان کے مطابق مولانا فضل الرحمان کی جماعت بھی اس وقت ان کی اتحادی تھی اور حکومت میں اسے وزارت مواصلات سمیت اہم ذمہ داریاں حاصل تھیں۔

وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ بعض سیاسی رہنما حکومت کی تبدیلی کے بعد اپنے لیے بھی اقتدار میں حصے کی امید لگائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سیاسی قلابازیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سیاسی اتحاد سے انہیں کوئی پریشانی نہیں، لیکن سیاست دانوں کے ماضی اور حال کے بیانات میں فرق عوام کے سامنے آنا چاہیے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ جب بھی انتخابات کا موقع آئے گا تو مسلم لیگ (ن)، جمعیت علمائے اسلام، عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنی قسمت آزما سکیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاست دانوں کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ ان کے مؤقف میں اصولی تسلسل ہو۔ جب رہنما کل کسی کے خلاف سخت زبان استعمال کریں اور آج اسی کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو عوام ان سے سوال کرتے ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کا دفاع کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نواز شریف سے تین مرتبہ اقتدار چھینا گیا، وہ جیل گئے، ان کی بیٹی بھی قید میں رہیں اور ان کی اہلیہ کا انتقال اس وقت ہوا جب وہ خود قید میں تھے، لیکن انہوں نے اپنی عزت اور وقار کا سودا نہیں کیا۔

معاشی اور سفارتی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان چٹان کی طرح کھڑا ہے۔

انہوں نے دفاعی معاہدے میں فیلڈ مارشل کے کردار کو کلیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارتی اور دیگر اہم اقدامات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کردار بھی اہم ہے، تاہم ان کے بقول ان اقدامات کی قیادت اور پیش رفت میں فیلڈ مارشل کا مرکزی کردار ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ معاشی اور سفارتی کامیابیوں میں بھی فیلڈ مارشل نے کارکردگی دکھائی ہے۔ ان کے مطابق فیلڈ مارشل اور سویلین اداروں کی کارکردگی کا تقابل کیا جا سکتا ہے۔

وزیر دفاع نے فوجی فاؤنڈیشن کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ادارے نے گزشتہ سال 323 ارب روپے ٹیکس ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ کی اسٹیل مل کو تالے لگ چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ نواز شریف اگر بینک کی نجکاری نہ کرتے تو وہ دیوالیہ ہو جاتا۔

خواجہ آصف نے وزیراعظم شہباز شریف کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک درست ہم سفر کا کردار ادا کیا۔ وزیر دفاع نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ خیبرپختونخوا میں حالات بہتر ہوں گے، صوبے میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی اور ملک کے دفاع کے لیے جانیں قربان کرنے والے جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی۔

Related posts