بھارتی یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں خودکشی سے روکنے والے خصوصی پنکھے نصب
تعلیمی زندگی میں امتحانات، مستقبل کی فکر اور ذاتی مسائل بعض اوقات طلبہ کے لیے شدید ذہنی دباؤ کا باعث بن جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں طلبہ کو محفوظ ماحول فراہم کرنا اور مشکل وقت میں ان کی مدد کرنا تعلیمی اداروں کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اسی سوچ کے تحت بھارت کی ایک یونیورسٹی نے اپنے ہاسٹلز میں ایسا حفاظتی انتظام کیا ہے جو خودکشی کے ایک ممکنہ ذریعے سے لاحق خطرے کو کم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
بھارتی ریاست گجرات میں واقع ویر نرمد ساؤتھ گجرات یونیورسٹی نے اپنے نو ہاسٹلز میں 388 خصوصی حفاظتی پنکھے نصب کیے ہیں۔ ان پنکھوں کی خاص بات یہ ہے کہ مقررہ حد سے زیادہ وزن پڑنے پر ان کا حفاظتی نظام متحرک ہو جاتا ہے، پنکھا نیچے کی طرف جھک جاتا ہے اور بجلی کی فراہمی منقطع ہو جاتی ہے۔ اس فیصلے کا مقصد ہاسٹلز میں رہنے والے طلبہ کے لیے زیادہ محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
بظاہر یہ پنکھے عام چھت والے پنکھوں جیسے ہی ہیں، لیکن ان میں اسپرنگ پر مبنی ایک خصوصی نظام نصب کیا گیا ہے۔ معمول کے حالات میں یہ عام پنکھوں کی طرح کام کرتے ہیں، تاہم ان پر 10 کلوگرام سے زیادہ وزن پڑنے کی صورت میں حفاظتی نظام متحرک ہو جاتا ہے۔
اس نظام کے فعال ہونے پر اسپرنگ کے زریعے پنکھا چھت سے زمین کی طرف مخصوص لمبائی تک آجاتا ہے اور اس کی بجلی بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ اس ڈیزائن کا مقصد پنکھے کو لٹکنے کے لیے استعمال ہونے والے ممکنہ سہارے کے طور پر کام کرنے سے روکنا اور کسی قیمتی انسانی جان کو بچانے کے امکانات بڑھانا ہے۔
اس خصوصی پنکھے کی قیمت 2,500 بھارتی روپے سے زیادہ ہے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، یہ خصوصی پنکھے نو ہاسٹلز میں نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں سے 170 پنکھے طالبات کے پانچ ہاسٹلز میں، جبکہ 218 پنکھے طلبہ کے چار ہاسٹلز میں لگائے گئے ہیں۔
یونیورسٹ کے وائس چانسلر کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ دیگر جامعات میں پیش آنے والے ایسے واقعات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق، اگرچہ یونیورسٹی کے اپنے کیمپس میں ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا، تاہم انتظامیہ کسی ممکنہ سانحے سے پہلے حفاظتی اقدامات کرنا چاہتی تھی۔
اس اقدام کے ساتھ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کو یہ پیغام بھی دیا ہے کہ امتحانات میں ناکامی زندگی کا اختتام نہیں اور تعلیمی مشکلات کا سامنا کرنے والوں کے لیے دوبارہ کوشش کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔
وائس چانسلر کے مطابق، یونیورسٹی ضرورت کے مطابق چھ مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ، حتیٰ کہ 12 مرتبہ سے زائد امتحانات منعقد کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کو امتحانات سے متعلق ذہنی دباؤ کے باعث خودکشی جیسے انتہائی قدم کے بارے میں نہیں سوچنا چاہیے۔
یہ پیغام اس حقیقت کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کی کامیابی کے ساتھ ان کی ذہنی کیفیت اور فلاح و بہبود کو اہمیت دینا بھی ضروری ہے۔
ماہرین اور تعلیمی اداروں کے لیے طلبہ کی حفاظت کا معاملہ صرف عمارتوں اور ان میں نصب آلات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ حفاظتی پنکھے خودکشی کے ایک ممکنہ ذریعے سے متعلق خطرہ کم کر سکتے ہیں، لیکن یہ ہر ایسے واقعے کو روکنے کی ضمانت نہیں دیتے۔
امتحانات کا دباؤ، مستقبل کے بارے میں بے یقینی اور ذاتی مسائل بعض طلبہ کی ذہنی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں طلبہ کو بروقت مشاورت، ذہنی صحت سے متعلق مدد اور کسی قابل اعتماد شخص سے بات کرنے کے مواقع فراہم کرنا بھی اہم ہے۔ ذہنی دباؤ کے معاملات میں کونسلنگ جیسے اقدامات بہت مفید ثابت ہوسکتے ہیں۔
یونیورسٹی کی جانب سے خصوصی پنکھوں کی تنصیب ایک احتیاطی قدم ہے، جس کا مقصد ممکنہ خطرے کو کم کرنا ہے۔ تاہم طلبہ کے لیے حقیقی معنوں میں محفوظ ماحول بنانے کے لیے حفاظتی انتظامات کے ساتھ ایسا تعلیمی ماحول بھی ضروری ہے جہاں وہ اپنی مشکلات بیان کرنے اور مدد حاصل کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں۔