آئی ایم ایف کی شرائط اور سپریم کورٹ کی ہدایات پر قانونی ترامیم: قومی اسمبلی کے اجلاس میں توسیع
وفاقی حکومت نے اہم قانون سازی کو حتمی شکل دینے کی غرض سے قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں 30 اکتوبر تک توسیع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس پہلے 26 اکتوبر تک شیڈول تھا، تاہم اب اسے مزید چار دن بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ زیر التوا اور مجوزہ قانونی مسودات کو ایوان سے منظور کرایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران حکومت بعض اہم قانون سازی کے لیے نئے بلز ایوان میں پیش کرے گی، جبکہ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلوں کی روشنی میں بعض موجودہ قوانین میں ضروری ترامیم بھی شامل کی جائیں گی۔
اس کے علاوہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی عائد کردہ شرائط کو پورا کرنے کے لیے بعض معاشی و قانونی اصلاحات سے متعلق قوانین میں تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکمران اتحاد نے اس مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے اپنی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر اعتماد میں لے لیا ہے اور تمام اہم بلز اور ترامیم سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کر دی ہے۔
حکومت کو توقع ہے کہ توسیع شدہ اجلاس کے دوران اتحادیوں کی مشاورت سے تمام قانون سازی بلا تعطل مکمل کر لی جائے گی۔