وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی: پاکستان کے لیے نتائج کیا ہوں گے؟

امریکا می منعقدہ حالیہ وسط مدتی انتخابات میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد جہاں پاکستان کی قیادت کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات میں ممکنہ احتساب اور جانچ پڑتال کا خدشہ ہے، وہیں دوسری جانب ملک کے عام شہری تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کے بحران میں کمی کی امیدیں لگا رہے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی کانگریس پر ڈیموکریٹس کے کنٹرول کے بعد اسلام آباد اور وائٹ ہاؤس کے درمیان قائم ہونے والے اسٹریٹجک اور معاشی تعلقات کو آئندہ دنوں میں سخت پارلیمانی نگرانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

پاکستانی عوام، خاص طور پر درآمدی ایندھن اور بڑھتی مہنگائی سے متاثرہ شہری، یہ سمجھتے ہیں کہ امریکی کانگریس میں سیاسی توازن کی تبدیلی سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ عسکری تصادم میں کمی آ سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق پاکستانی عوام کا ماننا ہے کہ کانگریس میں اپوزیشن کی مضبوطی سے ٹرمپ انتظامیہ کی یکطرفہ پالیسیوں پر لگام ڈالی جاسکے گی، جس سے مسلم ممالک کے خلاف سخت فیصلوں کی روک تھام میں مدد مل سکتی ہے۔

دوسری جانب، سیاسی تجزیہ کاروں اور سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق، پاکستان کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ساتھ مختلف شعبوں میں طے پانے والے معاہدے اور اعلیٰ سطحی تعلقات اب کانگریس کی چھان بین کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

پاکستان نے حالیہ عرصے میں واشنگٹن کے ساتھ سیکیورٹی، معدنیات، توانائی اور کرپٹو کرنسی کے شعبوں میں تعاون بڑھایا تھا، جبکہ مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے خاتمے میں ٹرمپ کے کردار کو سراہتے ہوئے انہیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد بھی کیا تھا۔

رائٹرز کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان کے کئی حالیہ تجارتی معاہدے ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی رفقا اور کاروباری حامیوں سے مربوط ہیں، جن میں ورلڈ لبرٹی فنانشل کی اسٹیبل کوائن (USD1)، نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ تعمیر کے منصوبے اور پاورس کمپنی سے ڈرون ٹیکنالوجی کی خریداریاں شامل ہیں۔

واشنگٹن میں واقع اسٹمسن سینٹر کے سینئر فیلو ڈینئیل مارکی اور سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی کے مطابق یہ تجارتی معاہدے ڈیموکریٹس کی قیادت میں کانگریس کی احتسابی کمیٹیوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بن سکتے ہیں۔

تاہم اٹلانٹک کونسل کے ماہر مائیکل کوگل مین کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور ایران کے معاملے پر سفارت کاری جیسے امور کو دونوں امریکی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث پاکستان کے لیے سفارتی راستے مکمل طور پر مسدود نہیں ہوں گے۔

Related posts