‘بتاتے ہو گر گوشوارہ، ہوگا مری جاں خسارہ’: ایف بی آر کی دھمکی نے عوام کے شاعر کو جگا دیا
شہریوں کو انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے کی آخری تاریخ یاد دلانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے شاعرانہ انداز نے پاکستانی عوام کے سوئے ہوئے شاعر کو جگا دیا ہے۔
ایف بی آر نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا ہینڈلز اور آگاہی پوسٹر میں ایک انتباہی پیغام شعر کی صورت میں جاری کیا اور لکھا: ”کرے گا جو کوئی تاخیر گوشوارے میں۔۔۔ نہ بھولیے، وہ رہے گا بہت خسارے میں“۔
پوسٹر پر ”اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ایف بی آر سب جانتا ہے!“ لکھ کر عوام کو تنبیہہ کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔
سینیئر صحافی وسعت اللہ خان نے ایف بی آر کا مذکورہ پوسٹر شیئر کرتے ہوئے ازراہِ مزاح لکھا ”ایف بی آر بھی شاعری پر اتر آیا“۔

واضح رہے کہ ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30 ستمبر مقرر کی تھی، جس میں توسیع کا بھی امکان ہے۔ ایف بی آر نے مقررہ تاریخ تک ریٹرن جمع نہ کرانے کی صورت میں بھاری جرمانوں اور سزاؤں سے خبردار کیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین نے ایف بی آر کا شاعرانہ انداز دیکھا تو برجستہ اشعار اور تبصروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
اسلام آباد سےط تعلق رکھنے والے مصنف حارث خلیق نے ”ایف بی آر سب جانتا ہے“ کے دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے لکھا: ”سب جانتا ہے تو پوچھ کیوں رہا ہے؟“

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر صادق مری نے بھی عوامی تاثر کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا: ”بتاتے ہو گر گوشوارہ بہت۔۔۔ تو ہوگا مری جاں خسارہ بہت“۔

یہ مزاحیہ تبصرے اُس گہرے اور وسیع عوامی تاثر کی عکاسی کرتے ہیں کہ ٹیکس ریٹرن فائل کرنا محض ایک کلک کا کام نہیں بلکہ ایک پیچیدہ اور اعصاب شکن مرحلہ ہے۔
قانون کے مطابق تمام صاحبِ نصاب افراد، تنخواہ دار طبقہ (جس کی سالانہ آمدن مقررہ ٹیکس حد سے تجاوز کرتی ہو)، تجارتی و کاروباری افراد، کمپنیاں، پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے والے ڈاکٹرز و وکلاء اور مخصوص پراپرٹی یا گاڑیوں کے مالک افراد پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے۔
ایف بی آر نے ڈیجیٹل دور میں ریٹرن فائلنگ کے عمل کو ”آئرس“ (IRIS) نامی آن لائن نظام یعنی پورٹل سے منسلک کر رکھا ہے۔

نئے صارفین کو ایف بی آر کی ویب سائٹ یا ”ٹیکس آسان“ موبائل ایپ کے ذریعے ای-اینرولمنٹ کرنا ہوتی ہے جہاں ان کا قومی شناختی کارڈ نمبر اور رجسٹرڈ موبائل نمبر لاگ ان آئی ڈی بن جاتا ہے۔
ایک مکمل اور قانونی ٹیکس ریٹرن میں دو بنیادی دستاویزات انتہائی اہم ہوتی ہیں۔ پہلا انکم ٹیکس ریٹرن فارم جس میں سال بھر کی کل آمدن اور اس پر کٹوانے والے ٹیکس کا حساب دیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا ویلتھ اسٹیٹمنٹ (موجودہ اثاثہ جات کی تفصیل) جس میں بینک بیلنس، جائیداد، گاڑی اور دیگر اثاثوں کی تفصیل فراہم کرنا ہوتی ہے۔
تنخواہ دار افراد کے لیے ایف بی آر کے آئرس پورٹل پر ایک سادہ اور مختصر فارم دستیاب ہوتا ہے جس میں صرف سالانہ سیلری سلپ، ایمپلائر کا ٹیکس سرٹیفکیٹ اور سالانہ شخصی اخراجات کا اندراج کرنا ہوتا ہے۔
ریٹرن فائل کرنے کے لیے بنیادی معلومات جیسے بینک اسٹیٹمنٹ، یوٹیلیٹی بلز پر کٹنے والا ٹیکس، املاک کی خرید و فروخت کی رسیدیں اور بچوں کی تعلیمی فیس کے ٹیکس چالان کی ضرورت پڑتی ہے۔
پورٹل پر تمام تفصیلات درج کرنے کے بعد جب سسٹم ”Submission“ کی رسید اور تصدیق نامہ (Acknowledgement Slip) جاری کرتا ہے تو ریٹرن جمع ہونے کی حتمی تصدیق ہو جاتی ہے۔
تاہم، ”آسان فائلنگ“ کے ایف بی آر کے رسمی دعوے اور شہریوں کے عملی تجربے کے درمیان ایک واضح خلیج موجود ہے۔
آخری دنوں میں لاکھوں افراد کے ایک ساتھ پورٹل کا رخ کرنے سے آئرس سسٹم میں تکنیکی دشواریاں اور سلو ڈاؤن دیکھنے کو ملتا ہے۔
عام شہریوں کو ویلتھ اسٹیٹمنٹ کی ریکنسلی ایشن (اثاثوں اور آمدن کو بیلنس) کرنے میں سخت دشواری ہوتی ہے، جہاں ایک روپے کا فرق بھی سسٹم پر ایرر دکھا دیتا ہے۔ مزید برآں، پیچیدہ ٹیکس اصطلاحات اور اضافی معلومات کے مطالبات عام آدمی کو کسی ٹیکس کنسلٹنٹ یا وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
دوسری جانب، ایف بی آر کا موقف ہے کہ ادارہ روز بروز اپنے آن لائن سسٹمز کو اپ گریڈ کر رہا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ”ٹیکس آسان“ ایپ اور آئرس پورٹل کو انتہائی صارف دوست بنایا گیا ہے اور ویب سائٹ پر ویڈیو ٹیوٹوریلز و رہنما گائیڈز فراہم کی گئی ہیں تاکہ لوگ بغیر کسی وکیل کے گھر بیٹھے ریٹرن جمع کروا سکیں۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ ادارے کا مقصد ٹیکس دہندگان کو سہولت دینا اور نظام کو مکمل شفاف بنانا ہے۔