گورنر راج کے نفاذ کے بعد خیبر پختونخوا انتظامیہ میں بڑا ردوبدل: اعلیٰ افسران تبدیل
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے فوری بعد وفاقی حکومت نے صوبائی بیوروکریسی میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کے سینئر افسران کو صوبے سے منتقل کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشنز کے مطابق یہ اقدامات آئینی اور انتظامی امور کو نگران کنٹرول میں لانے اور صوبے میں نئی انتظامی ترجیحات پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
تبدیل کیے جانے والے افسران میں خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکریٹری اور پی اے ایس کے گریڈ 21 کے افسر شہاب علی شاہ بھی شامل ہیں، جنہیں سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 10 کے تحت عہدے سے ہٹا کر فوری طور پر آئندہ احکامات تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ گریڈ 21 کے سینئر افسران اکرام اللہ اور عنبر علی خان، گریڈ 20 کے شاہد اللہ اور سہیل خان، نیز گریڈ 19 کے افسران شاہ فہد، کیپٹن (ریٹائرڈ) میاں عادل اقبال، محمد عثمان، کیپٹن (ریٹائرڈ) سرمد سلیم اکرم اور شفیع اللہ خان کو بھی صوبے سے تبدیل کر کے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انتظامی ردوبدل کے تحت گریڈ 18 کے چار افسران کیپٹن (ریٹائرڈ) زبیر خان، وقار علی، کیپٹن (ریٹائرڈ) ثناء اللہ خان، محمد احتشام الحق اور محمد فہیم کا تبادلہ بھی خیبر پختونخوا سے کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، وفاقی حکومت نے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے گریڈ 20 کے سینئر افسر محمد یحییٰ اخونزادہ کی خدمات سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے سیکشن 10 کے تحت خیبر پختونخوا کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جہاں وہ نئی اہم انتظامی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
ضلع چارسدہ سے تعلق رکھنے والے محمد یحییٰ اخونزادہ اس سے قبل وزیراعظم آفس میں بطور ایڈیشنل سیکریٹری فرائض انجام دے رہے تھے۔ وہ خیبر پختونخوا میں سیکریٹری ہیلتھ، سیکریٹری انفارمیشن، سیکریٹری ایجوکیشن، کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان اور جنوبی و شمالی وزیرستان میں ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ جیسے اہم اور حساس عہدوں پر کام کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں، اور ان کی یہ تعیناتی تاحکمِ ثانی مؤثر رہے گی۔
یہ انتظامی ردوبدل صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 232 (1) اور 234 (1) کے تحت صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے باضابطہ اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
صدارتی اعلامیے کے نتیجے میں وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، مشیران اور معاونینِ خصوصی اپنے عہدوں سے سبکدوش ہو چکے ہیں جبکہ صوبے کے انتظامی امور اب گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی نگران قیادت میں چلائے جا رہے ہیں۔
اس سے قبل وفاق نے گریڈ 22 کے افسر ڈاکٹر محمد فخر عالم عرفان کو صوبے کا نیا چیف سیکریٹری بھی مقرر کیا تھا، جس کے بعد انتظامی سطح پر یہ نیا اور وسیع پیمانے پر ردوبدل کیا گیا ہے۔