خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ سیاسی غلطی ہے، وفاق نظرثانی کرے: بیرسٹر گوہر
چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی شدید مذمت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر طویل بیان میں بیرسٹر گوہر نے لکھا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ سیاسی غلطی اور غیر جمہوری اقدام ہے، صوبائی خودمختاری کمزور کرکے امن قائم نہیں کیا جاسکتا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ عوام کی آواز دبانے کا جواز نہیں بن سکتی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کا مینڈیٹ ان کا آئینی اور قانونی حق ہے، جس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ عوام اپنے حقوق کے خلاف اقدامات قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبوں کو کمزور کرکے وفاق کو مضبوط نہیں بنایا جاسکتا، بلکہ ملک میں استحکام کے لیے آئین کی حکمرانی اور صوبائی خودمختاری کا تحفظ ضروری ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی یکجہتی اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ بامعنی مذاکرات اور سیاسی بصیرت میں ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو زمینی حقائق کو سمجھتے ہوئے سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
بیرسٹر گوہر نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور چند دنوں میں بھی اس فیصلے کو واپس لیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی فیصلے پر نظرثانی کرنا کمزوری نہیں بلکہ دانشمندی ہے، اس لیے وفاق کو انا کا مسئلہ بنانے کے بجائے عوامی جذبات اور زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ سے ملک کو مزید سیاسی اور معاشی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو سیاسی کشیدگی میں اضافے کا سبب بنیں۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ آئین کی حکمرانی ہی ایک مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ پی ٹی آئی عوامی مینڈیٹ اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائے گی۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کے جائز مطالبات تسلیم کرکے ان کے جذبات کا احترام کیا جائے۔