وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور جنید اکبر کی گرفتاری کا دعویٰ
صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی سمری پر دستخط کیے جانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی اور پارٹی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان کے سرکاری ایکس اکاؤنٹ سے جاری ہونے والے ایک ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر خان کو گرفتار لیا گیا ہے، تاہم سرکاری سطح پر اس گرفتاری کے حوالہ سے فی الحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز بھی زیرِ گردش ہیں، جن میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں شامل وزیرِ اعلیٰ کے کنٹینر کو سڑک پر خالی کھڑا دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ اور لانگ مارچ میں شامل کارکنان چارسدہ میں کنٹینر چھوڑ کر غائب ہو گئے ہیں۔
اتوار کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت انعقاد پذیر ہونے والے وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس میں آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کی باقاعدہ منظوری دی گئی تھی۔
وفاقی کابینہ کی منظوری اور صدر مملکت کی توثیق کے بعد صوبے کی انتظامی باگ ڈور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سنبھالیں گے اور وہی تمام نگران ذمہ داریاں انجام دیں گے۔
طے شدہ حکمتِ عملی کے تحت سابق فاٹا اور متصل اضلاع میں آئین کے آرٹیکل 232 کے تحت ایمرجنسی کا اطلاق کیا گیا ہے، جبکہ شدید بدامنی کا شکار 12 مخصوص اضلاع یعنی کرم، اپر وزیرستان، لوئر وزیرستان، شمالی وزیرستان، باجوڑ، مہمند، خیبر، اورکزئی، بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے انتظامی و سیکیورٹی امور کے لیے الگ سے ہنگامی اقدامات کیے جائیں گے۔